ملائم نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو نے اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے۔ اعتماد کے ووٹ کے دوران صرف ان کے پارٹی کے ارکان اسمبلی ایوان میں موجود تھے۔ حزب اختلاف کی جماعتیں بہوجن سماج پارٹی اور اور کانگریس پہلے ہی اسمبلی کی کارروائی سے اپنے کوعلیحدہ رکھنے کا اعلان کر چکی تھی۔ اس درمیان کانگریس پارٹی کے ارکان اسمبلی نے پیر کے دن اپنا استعفی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کو بھیج دیا تھا۔ لکھنؤ سے مقامی نامہ نگار شیلند سریواستو نے اطلاع دی ہے کہ حزب اختلاف کی اہم جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان اسمبلی ميں گئے اور ایوان کی کارروائی کے دوران شدید ہنگامہ کیا۔ اس وجہ سے اسمبلی کی کارروائی تقریباً تیس منٹ تک معطل کرنا پڑی۔ اعتماد کے ووٹ سے ٹھیک پہلے بی جے پی کے ارکان ایوان سے ’ واک آوٹ‘ کر گئے۔ حزب اختلاف کے ارکان کی عدم موجودگی میں حکمران جماعت کے اراکین نے ’وائس ووٹ‘ کے ذریعے ملائم سنگھ پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ریاستی اسمبلی میں سماجوادی پارٹی کے رہنما امبیکا چودھری نے دعویٰ کیا کہ ملائم سنگھ حکومت کو دوسو پندرہ ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ اترپردیش میں حزب اختلاف کی جماعتیں چاہتی تھیں کہ ملائم حکومت مستعفی ہوجائے لیکن وہ استعفی دینے سے پہلے ہی انکار کر چکے تھے۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں بہوجن سماج پارٹی کے ان تیرہ ارکان اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کا حکم دیا تھا جن کی حمایت سے 2003 میں ملائم سنگھ یادو کی حکومت بنی تھی۔ اس کے بعد سیاسی سرگرمی تیز ہوگی اورمرکز میں حکمراں جماعت کانگریس ریاست میں صدر راج نافذ کرنا چاہتی تھیں لیکن وہ اپنی معاون جماعتوں کی حمایت حاصل نہیں کرسکی۔ فیصلے کے بعد ملائم سنگھ نے کہا تھا کہ وہ چھبیس فروری کو اپنا اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے۔ ایک ہی اجلاس میں دوسری بار وہ اپنا اعتماد کا ووٹ حاصل کر رہے ہیں اس سے قبل وہ پچیس جنوری کو کانگریس کی جماعت کی واپسی کے سبب اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تھا۔ | اسی بارے میں منی پور انتخابات کا دوسرا مرحلہ14 February, 2007 | انڈیا اتراکھنڈ میں پولنگ مکمل21 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||