جدید تعلیم کے لیے نئی تجویز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی حکومت نے مدارس میں ملنے والی تعلیم کو جدید بنانے کے لیے قومی مدرسہ بورڈ تشکیل دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس سلسلے میں اتوار کے روز دلی میں ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں پورے ملک سے آئے ہوئے علماء اور رہنماؤں نے شرکت کی۔ اقلیتوں کی تعلیم سے متعلق بنائے گئے قومی کمیشن کی جانب سے منعقد کئے گئے اس اجلاس کا مقصد مدرسوں ميں دی جا نے والی تعلیم کی جدید کاری کے اقدامات تلاش کرنا تھا۔ بعض شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فوری طور پر مدرسوں کے نصاب میں باقائدہ طور پر سائنس اور حساب جیسے مضامین شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ کمیشن نے پورے ملک کے مدرسوں کے لیے قومی بورڈ بنانے کی پیشکش کی۔ کمیشن کے مطابق خود مختار ادارے کی طرح کام کرنے والے یہ بورڈ سنٹر بورڈ فار سکنڈری ایجوکیشن یعنی سی بی ایس آئی کے برابر ہوگا۔ کمیشن کے صدر جسٹس ایم ایس اے صدیقی نے مجوزہ بورڈ کی تصیلات دیتے ہوئے بتایا: ’ اس ميں چار مدارج کے مدرسے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ان میں پرائمری مدرسہ ، اپر پرائمری مدرسہ، سکینڈری مدرسہ اور سیئنر سکینڈری مدرسہ شامل ہوں گے۔جب یہ بل پارلیمنٹ سے پاس ہو جائےگا تو ہندوستان میں موجود کوئی بھی مدرسہ اس سے جڑ سکتا ہے۔‘ اجلاس میں انسانی وسائل کے فروغ کے وزیر ارجن سنگھ نے اپنے خطاب کے دوران اس بات پر زور دیا کہ حکومت مدرسوں کی جدید کاری کے لئے ہر قسم کی پیشکش پر غور کرنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا: ’یہ ایک غلط فہمی ہے کہ مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ دہشتگرد ہوتے ہیں۔‘ اجلاس میں آسام ، تریپورا اور دیگر ریاستوں سے آئے ہوئے تقریبا ایک ہزار علماء اور رہنماؤں نے شرکت کی اور حکومت کی اس تجویز پر خیالات کا اظہار کیا ۔ لیکن جمعیت العمائے ہند کے صدر ارشد مدنی اس بورڈ کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔ انکا کہنا تھا: ’ اگر اس قسم کا بورڈ بن جاتا ہے تو جن مقاصد کے لئے مدارس بنائے گئے تھے وہ مقاصد پورے نہیں ہو سکیں گے۔‘ مسلمانوں کے اقتصادی اور معاشی حالات کا جائزہ لینے کے لئے حکومت کی تشکیل کردہ سچر کمیٹی کے مطابق پورے ملک میں چار فیصد مدرسوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں،۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ ميں تمام سفارشات کے ساتھ مسلمانوں کے کے لئے مفت اور لازمی تعلیم کی بھی سفارش کی ہے۔ | اسی بارے میں مدرسے: مالی معاملات پرمسودہ 01 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||