ممبئی کیفے:’ہِٹلر کراس‘ غائب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نوی ممبئی میں کیفے کے مالک پنیت سبلوک نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے کیفے سے’ہٹلر کراس‘ کے نام کا بورڈ ہٹا دیا ہے ۔ پنیت کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ قدم یہودی برادری کے جذبات کو خیال میں رکھ کر اٹھایا ہے۔ پنیت سبلوک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ابھی اپنے کیفے کا نیا نام نہیں سوچا ہے لیکن ایک دو روز میں وہ نیا نام رکھ لیں گے۔ انکا کہنا تھا کہ ایسا انہوں نے کسی کے دباؤ میں نہیں کیا ہے۔ پنیت سبلوک کے مطابق انہیں ذرائع ابلاغ سے پتہ چلا کہ ان کے کیفے کے نام سے یہودیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور وہ کسی کے جذبات کے ساتھ کھیل کر کے بزنس کرنا پسند نہیں کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تو ہٹلر کو ایک فاتح کے روپ میں دیکھتے ہیں اس لیئے انہوں نے یہ نام پسند کیا تھا ۔ نوی ممبئی کے کھارگھر علاقہ میں کئی دنوں سے پنیت سبلوک کا کیفے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا کیونکہ اس کا نام ایوڈؤلف ہٹلر کے نام پر رکھا گیا تھا اور اس کے ساتھ اس پر سواستک کا نشان بنا تھا۔ کیفے کے اس نام کی وجہ سے نہ صرف ممبئی بلکہ دنیا بھر کے یہودیوں نے اعتراض کیا تھا۔ ممبئی میں اسرائیلی سفیر ڈینئیل زوشائن نے اپنی برہمی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ریاستی حکام سے اس سلسلے میں مداخلت کی اپیل کریں گے۔ ممبئی میں انڈین جیوز فیڈریشن کے چیئرمین جوناتھن سولومن نے دعوی کیا ہے کہ ان کی پنیت سبلوک کے ساتھ ایک میٹنگ ہوئی ہے جس میں پنیت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کیفے کا نام بدل دیں گے اور انہوں نے ایسا کر کے ’ہٹلر کا نام و نشان اس صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے۔‘ | اسی بارے میں ہٹلر کیفے، اسرائیلی سفیر ناراض 23 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||