انڈیا:سٹیل متل کارخانہ لگائے گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سٹیل بنانے والی دنیا کی مشہور کمپنی ’سٹیل متّل‘ نے انڈیا کی ریاست اڑیسہ میں چار سو ارب روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی ریاست میں بارہ ملین ٹن گنجائش کا سٹیل کا کارخانہ کھولے گی۔ سٹیل متل کےچئرمین لکشمی متل نے وزیراعلیٰ نوین پٹنائبک سے ملاقات کے بعد اس منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ مسٹرمّتل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مجوزہ سرمایہ کاری دو مرحلوں میں ہوگی اور چھ ملین ٹن گنجائش کے دوپلانٹس لگائے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں ان کی کمپنی کی طرف سے اب تک سرمایہ کاری کا یہ سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اڑیسہ کی حکومت کے ساتھ بہت جلد مفاہمت کی ایک یاداشت پر دستخط ہوں گے لیکن انہوں نے یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ مجوزہ پلانٹس لگانے میں کتنا وقت لگےگا۔ مسٹر متّل کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت کے ساتھ بات چیت سے وہ بہت خوش ہیں۔’حکومت نے ہمیں جو پیش کش کی ہے وہ چین کی پیش کش سے بھی زیادہ بہتر ہے‘۔ حال ہی میں سٹیل متل نے دنیا کی مشہور سٹیل کمپنی آرسیلور کو خریدا ہے۔ متّل کا کہنا ہے کہ دونوں کمپنیوں کو ضم کرنے کے بعد نئی کمپنی کی سب سے زیادہ توجہ بھارت اور چین پر ہوگی۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائیک بھی پریس کانفرنس میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ لکشمی متّل سے ان کی بات چیت نتیجہ خیز رہی ہے۔’اس مجوزہ کارخانے کھلنے سے ریاست میں روزگار کے کافی مواقع پیدا ہونگے‘۔ اس سے پہلے کمپنی نے ریاست جھارکھنڈ میں بھی اسی طرح کے ایک پروجیکٹ کا اعلان کیا تھا لیکن ایک سوال کے جواب میں مسٹر متّل نے کہا کہ جھارکھنڈ کا پروجیکٹ سست روی کا شکار ہے اور وہ اس سے بہت خوش نہیں ہیں۔ جھارکھنڈ میں اپوزیشن جماعتیں لوہے کی کانوں کو کمپنی کے حوالے کرنے کے حکومت کے فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں۔ اس بات کے بھی اندیشہ ہے کہ مستقل میں ریاست اڑیسہ میں بھی کمپنی کے ساتھ یہی سلوک کیا جائے۔ لکشمی متّل اعلیٰ افسران کے ساتھ انڈیا کے ایک روزہ دورے پر ہیں۔ دلی میں وہ وزیراعظم منموہن سنگھ سمیت کئی سینئر حکام سے ملاقات کررہے ہیں۔ پوروپین کمپنی آرسلور کو خریدنے کے بعد انڈیا میں سٹیل کے کئی کارخانے لگ سکتے تھے۔ ٹاٹا جیسی بڑی کمپنیاں اب خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگی ہیں لیکن دلی میں مسٹر متل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مستقبل قریب میں انڈیا کی کسی بھی کمپنی کو خریدنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ | اسی بارے میں تیل کے کارخانے کی تعمیر03 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||