BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 April, 2006, 14:50 GMT 19:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلم نواز پالیسی: اڈوانی کی یاترا

ادڈانی
’اقلیتوں کی خوشنودی کی پالیسی ملک کو برباد کر دے گی‘
حکومت کی نام نہاد مسلم نواز پالیسییوں کے خلاف عوام میں بیداری پیدا کرنے لیئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما لال کرشن اڈوانی جمعرات سے ایک ملک گیر یاترا کا آغاز کر رہے ہیں۔

یاترا کی تفصیلات کے بارے میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے اڈوانی نے کہا ’جب سے منموہن سنگھ کی کانگریس حکومت آئی ہے وہ مسلسل اقلیتوں کی خوشنودی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اگر اسے روکا نہیں گیا تو یہ ملک کو برباد کر دے گا‘۔

اس یاترا کا آغاز دو مقامات سے ہو گا۔ اڈوانی گجرات میں راجکوٹ سے اس کی شروعات کریں گے جبکہ پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ اڑیسہ میں بھو نیشور سے یاترا کی ق‍یادت کریں گے۔ اس نوعیت کی اڈوانی کی یہ پانچویں سیاسی یاتراہے۔

راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ مرکزی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے اور اب وہ ’مسلم ووٹ بینک‘ کی سیا ست کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا ’یہ ایک گھمبیر معاملہ ہے‘۔

وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اڈوانی سے اپیل کی تھی کہ وہ یاترا نہ کریں کیونکہ اس سے ملک کا ماحول خراب ہو سکتا ہے۔ اس کے جواب میں اڈوانی کا کہنا تھا کہ کانگریس کی حکومت مسلمانون کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے ایک خطرناک سیاست کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’بنگلہ دیشی دراندازوں اور تبدیلی مذہب سے آبادی کے تناسب پر اثر پڑ رہا ہے۔ اگر آبادی کا تناسب بگڑ گیا تو ہندوستان سیکولر نہیں رہ پاۓ گا‘۔

بی جے پی کے رہنما نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ ووٹ بینک کی سیاست کرنے والوں کے ہاتھ کا کھلونا نہ بنیں۔انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف راغب ہونا چاہیئے ۔

رام مندر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اڈوانی نے کہا انھیں امید ہے کہ ’مندر اتفاق رائے یاعدالت کے فیصلے سے بنے گا لیکن بنے گا‘۔

یہ یاترا ملک کے مختلف علاقوں سے گزرے گی اور یہ دونوں رہنما اس سفر میں سینکڑوں مقامات پر عوام سے خطاب کریں گے۔ یاترا کا اختتام دس مئی کو ہوگا۔
اڈوانی نے اسی طرح کی یاترائیں رام مندر کی تحریک کے دوران بھی نکالی تھیں۔اس وقت انھیں شمالی اور مغربی ہندوستان میں زبردست عوامی حمایت ملی تھی۔ تجزیہ کار اس یاترا کو بھی کھوئی ہوئی عوامی مقبولیت دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش سے تعبیر کر رہے ہیں لیکن ان کہ کہنا ہے کہ بی جے پی شاید پہلے جیسی حمایت حا صل نہ کرسکے کیونکہ عوام کا رحجان اب یاتراؤں کی سیاست سے باہر نکل چکا ہے۔

اسی بارے میں
’بات تو مشرف سے ہوگی‘
15.06.2003 | صفحۂ اول
پاک بھارت رابطے بحال
02.05.2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد