مسلم نواز پالیسی: اڈوانی کی یاترا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت کی نام نہاد مسلم نواز پالیسییوں کے خلاف عوام میں بیداری پیدا کرنے لیئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما لال کرشن اڈوانی جمعرات سے ایک ملک گیر یاترا کا آغاز کر رہے ہیں۔ یاترا کی تفصیلات کے بارے میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے اڈوانی نے کہا ’جب سے منموہن سنگھ کی کانگریس حکومت آئی ہے وہ مسلسل اقلیتوں کی خوشنودی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اگر اسے روکا نہیں گیا تو یہ ملک کو برباد کر دے گا‘۔ اس یاترا کا آغاز دو مقامات سے ہو گا۔ اڈوانی گجرات میں راجکوٹ سے اس کی شروعات کریں گے جبکہ پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ اڑیسہ میں بھو نیشور سے یاترا کی قیادت کریں گے۔ اس نوعیت کی اڈوانی کی یہ پانچویں سیاسی یاتراہے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ مرکزی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے اور اب وہ ’مسلم ووٹ بینک‘ کی سیا ست کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا ’یہ ایک گھمبیر معاملہ ہے‘۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اڈوانی سے اپیل کی تھی کہ وہ یاترا نہ کریں کیونکہ اس سے ملک کا ماحول خراب ہو سکتا ہے۔ اس کے جواب میں اڈوانی کا کہنا تھا کہ کانگریس کی حکومت مسلمانون کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے ایک خطرناک سیاست کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’بنگلہ دیشی دراندازوں اور تبدیلی مذہب سے آبادی کے تناسب پر اثر پڑ رہا ہے۔ اگر آبادی کا تناسب بگڑ گیا تو ہندوستان سیکولر نہیں رہ پاۓ گا‘۔ بی جے پی کے رہنما نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ ووٹ بینک کی سیاست کرنے والوں کے ہاتھ کا کھلونا نہ بنیں۔انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف راغب ہونا چاہیئے ۔ رام مندر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اڈوانی نے کہا انھیں امید ہے کہ ’مندر اتفاق رائے یاعدالت کے فیصلے سے بنے گا لیکن بنے گا‘۔ یہ یاترا ملک کے مختلف علاقوں سے گزرے گی اور یہ دونوں رہنما اس سفر میں سینکڑوں مقامات پر عوام سے خطاب کریں گے۔ یاترا کا اختتام دس مئی کو ہوگا۔ | اسی بارے میں ’بات تو مشرف سے ہوگی‘15.06.2003 | صفحۂ اول پاک بھارت دوستی: وقت اور جواز07.05.2003 | صفحۂ اول پاک بھارت رابطے بحال 02.05.2003 | صفحۂ اول پاک بھارت تعلقات میں پیش رفت 22 July, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||