سندھی بستی میں عمارتوں کاانہدام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تقسیم کے بعد سندھ سے بھارت آئے سندھیوں کی آبادی والے علاقے الہاس نگر میں عدالتی حکم کے بعد ایک بار پھر انہدامی کارروائی جمعہ کوشروع کردی گئی۔ الہاس نگر میونسپل کارپوریشن کا انہدامی دستہ تقریبا تین ہزار پولیس اور ریاستی ریزرو پولس فورس کے تحفظ میں لکشمی گنگا نواس کو منہدم کررہا ہے۔ ممبئی ہائی کورٹ نے ایک صحافی اور مقامی باشندے (سندھی) ہری تنوانی کی غیر قانونی عمارتوں کے خلاف داخل اپیل پر فیصلہ دیا تھا کہ شہر کی تمام آٹھ سو پچپن رہائشی اور تجارتی دکانوں کو منہدم کردیا جائے۔ مقامی باشندہ کمل تینجانی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب یہاں عمارتیں بن رہی تھیں تب میونسپل افسران نے ہی اسے بنانے کی اجازت دی ۔عمارتوں میں پانی اور بجلی کا کنکشن ہے ۔اس وقت بلڈر سے مل کر سب کام ہو گیا لیکن اب جبکہ ان عمارتوں کو غیر قانونی کہہ کر توڑا جا رہا ہے تو یہ افسران غائب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے حکم میں یہ بھی صاف لفظوں میں کہا گیا ہے کہ جو افسران ان غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے لیکن ایساکچھ نہیں ہوا اور سیدھے ان کی عمارتوں کو توڑنے چلے آئے۔ عدالت کے حکم کے بعد انتیس نومبر کو جب لکشمی نواس کو منہدم کیا جا رہا تھا تب الہلاس نگر میں عوام نے زبردست احتجاج کیا تھا۔ انہوں نے انہدامی دستے اور پولیس پر پتھراؤ بھی کیا تھا اور ’راستہ روکو تحریک‘ شروع کی تھی جس کے بعد عملہ نے کارروائی روک دی تھی۔ الہاس نگر میونسپل کمشنر ڈی ایس پاٹل نےغیر قانونی عمارتوں کے بارے میں براہ راست کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے حال ہی میں چارج لیا ہے اس لیے مجھے کچھ پتہ نہیں ہے‘۔ | اسی بارے میں دلی: غیرقانونی عمارتوں کا انہدام19 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||