دلی: غیرقانونی عمارتوں کا انہدام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے دارالحکموت دلی میں ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد غیر قانونی طریقے سے بنائی گئی عمارتوں کو منہدم کرنے کی مہم مزید تیز کر دی گئی ہے۔ عدالت نے ایسی تقریبا 18000 عمارتوں کو منہدم کرنے کے لیے صرف چار ہفتے کا وقت دیا ہے۔ ایم سی ڈی یعنی دلی کی میونسپل کارپوریشن کی اس مہم کے دوسرے روز سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ گزشتہ روز کی کارروائی کے دوران ایم سی ڈی کے اہلکار اور شہریوں کے درمیان جھڑپیں ہونے کی خبریں ملی تھیں۔ پیر کی کارروائی میں پولیس اہلکاروں کی تعداد میں مزیدا اضافہ کر دیا گیا تھا لیکن عام افراد کا غصہ برقرار تھا۔ اس پورے معاملے پر حزب اختلاف نے وزیر اعلیٰ شیلا ڈکشٹ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ دلی بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ ’اس پورے معاملے کے لئے وزير اعلی شیلا ڈکشٹ ذمہ دار ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ جلد سے جلد مستعفی ہو جائيں‘۔ حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینےکے لیے وزیر داخلہ شوراج پاٹل نے اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے کل ایک میٹنگ بھی طلب کی تھی جس میں داخلہ سکریٹری سمیت دلی پولیس کمشنر اور چیف سکرٹری نے بھی شر کت کی ۔ اس پورے معاملے پر کانگریس نے کہا ہے کہ وہ ایک ایسا فارمولا تلاش کر رہی ہے جس سے کسی کو نقصان نہ پہنچے۔ کانگرس کے ریاستی صدر رام بابو شرما نے کہا کہ’ہم اسی کوشش میں ہیں کہ صلاح مشورے کے بعد کوئی ایسی تجویز پیش کی جائے جس سے عام لوگوں کو بچایا جا سکے‘۔ دلی میں یوں تو اس طرح کی کارروائی ہوتی رہتی ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے جب جب دلی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں مداخلت کی ہے۔ | اسی بارے میں چاندنی راتوں میں تاج کھلا رہے گا15 February, 2005 | انڈیا اندرا گاندھی کی سادہ یادگار30 October, 2004 | انڈیا بھارت میں شہروں کی ترقی کا اعلان03 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||