رشوت سکینڈل، اراکین کی وضاحتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رشوت سکینڈل میں ملوث لوک سبھا کے تمام دس اراکین نے اپنے اپنے جواب اور وضاحتیں اس معاملے کی تحقیق کرنے والی کمیٹی کے سامنے پیش کردی ہیں۔ گزشتہ پیر کو ایک ٹی وی چینل پر ان اراکین کو ایک خفیہ ویڈیو میں پارلیمنٹ میں مخصوص سوالات پوچھنے کے لیے رشوت لیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ معاملے کے سامنے آنے کے بعد لوک سبھا کے سپیکر سوم ناتھ چیٹر جی نے ویڈیو ریکارڈنگ کی سچائی جاننے کے لیے ایک کمیٹی بنائی تھی اور تحقیقات مکمل ہونے تک متعلقہ ارکان کے پارلیمنٹ میں داخل ہونے پر پابندی بھی لگا دی گئی تھا۔ راجیہ سبھا میں بھی اس معاملے کی تحقیق کرنے والی کمیٹی نے سکینڈل میں ملوث واحد رکن کو معطل کر دیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب ’ کوبرا پوسٹ‘ نامی ویب سائٹ اور ’ آج تک‘ ٹی وی چینل نے ایک خفیہ کیمرے کے ذریعے ارکان پارلیمان کو رشوت لیتے ہوئے دکھایا۔ رشوت لینے والوں میں سے دس لوک سبھا اور ایک راجیہ سبھا کے رکن ہیں۔ ان میں سے چھ اراکین کا تعلق بی جے پی سے ہے جب کہ تین ارکان بہو جن سماج پارٹی اور ایک ایک رکن کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل سے تعلق رکھتے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹیوں نے اگر خفیہ ریکارڈنگ کو صحیح پایا تو وہ سزا کے طور پر ان ارکان کی پارلیمنٹ کی رکنیت ایک مخصوص مدت کے لیے معطل کرنے سے لےکر انہیں پارلیمنٹ سے نکالنے تک کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جس طرح ان ارکان پارلیمان کو رشوت لیتے ہوئے ملک میں ٹیلی وژن پر دکھایا گیا ہے یہ کمیٹیاں پارلیمنٹ کے وقار کے لیے شاید ان ارکان کو پارلیمنٹ سے نکالنے کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔ | اسی بارے میں ’رشوت خور‘اراکین، داخلے پر پابندی13 December, 2005 | انڈیا ممبر پارلیمان رشوت لینے پر معطل12 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||