ڈانس بار کے خلاف کریک ڈاؤن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر میں ڈانس باروں پر پابندی کے بعد پہلی بار کئی بارز پر چھاپے مارے گئے ہیں۔ اس کاروائي کے تحت تقریبا دو سو افراد کو گرفتار کیاگیا ہے جن میں سے نوے بار کی رقاصائیں ہیں۔ سب سے پہلے ممبئی کی پولیس نے کاروائی شروع کی ہے اور شہر کے مختلف بارز کو سیل کر دیا گيا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پابندی کے باوجود بارز چل رہے تھے اور چھاپوں کے دوران وہاں موجود عملے کے علاوہ گاہکوں کو بھی حراست میں لیا گيا ہے۔ بار مالکان کا کہنا ہے کہ پولیس اس طرح کی کارروائی رقاصاؤں اور مالکان کو ہراساں کرنے کے لیے کر رہی ہے۔ اس سے قبل بار مالکان ایسوسی ایشن نے عدالت سے گزارش کی تھی کہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ ہونے تک حکومت کی پابندی کے خلاف امتناعی حکم جاری کر دیا جائے تا کہ بار دوبارہ کھول دیے جائیں لیکن ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ممبئی ہوٹل اور ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن نے بار پر پابندی نافذ کرنے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیاتھا جس کی سماعت اس ماہ کے آخر میں ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ باروں پر پابندی سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوجائیں گے۔ حال ہی میں مہاراشٹر اسمبلی نے ڈانس باروں پر پابندی نافذ کرنے کے لیے ایک بل کی منظوری دی تھی۔ اس بل کو خاصی بحث کے بعد اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا تھا۔ اپوزیشن سمیت تمام ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ ڈانس باروں سےقحبہ گیری، جرائم اور برائیاں جنم لیتی ہیں اس لیے انہیں بند ہونا چاہیے۔ اس قانون سے ریاست کے تقریبا چودہ سو ڈانس باروں میں کام کرنے والی ایک لاکھ سے زائد لڑ کیاں بے روزگار ہو گئی ہیں۔ یاد رہے کہ ریاست مہاراشٹر میں زیادہ تر ڈانس بار ممبئی میں ہیں۔ بعض سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ڈانس بار بند ہونے سے زیادہ تر رقاصائیں قحبہ گری کے پیشے سے منسلک ہوسکتی ہیں اور اس سے جسم فروشی کے کاروبار میں اضافہ ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||