ہندوجا برادران الزامات سے بری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ایک عدالت نے برطانیہ میں مقیم ارب پتی ہندوجا برادران کو بوفور توپوں کے سودے میں مبینہ رشوت کے مقدمہ میں بری کر دیا ہے۔ دہلی میں ہائی کورٹ نے ہندوجا برادران کے خلاف تمام الزامات یہ کہہ کر ختم کر دیے کہ اس حوالے سے شہادت مکمل نہیں ہے۔ ہندوجا برادران پر چار سو بوفور توپوں کے ایک عشاریہ تین ارب ڈالر کے سودے میں سویڈن کی ایک کمپنی سے انیس سو چھیاسی میں رشوت لینے کا الزام تھا۔ بوفرز سویڈن کی ایک کمپنی کا نام ہے۔ ہندوجا برادران کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلے نے ان کے موقف کو ثابت کر دیا ہے اور یہ طے ہوگیا ہے کہ وہ کبھی کسی غلط کام میں ملوث نہیں تھے۔ منگل کو اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ استغاثہ ہندوجا برادران کے خلاف اصل دستاویز پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ عدالت کے مطابق وہ دستاویزات جن پر تحقیقاتی ادارے نے زیادہ انحصار کیا تھا مشکوک اور غیر مفید ہیں کیونکہ ان کے صحیح ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔ جج نے بھارت کے ادارے سی بی آئی پر تنقید کی اور کہا کہ اس ادارے نے عوام کی پیسہ اور وقت ضائع کیا ہے۔’ اس مقدمے میں چودہ برس لگے ہیں جس پر اڑھائی ارب روپے خر ہوئے اور اس سے ہندوجا برادران کو بہت زیادہ معاشی، جذباتی، پیشہ وارانہ اور ذاتی نقصان بھی پہنچا ہے۔ سی بی آئی جو سپریم کورٹ میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکتا ہے، عدالتِ عالیہ کے فیصلے پر فی الحال غور کر رہا ہے۔ ادھر لندن میں ایک بیان میں ہندوجا برادارن نے کہا ہے کہ عدالتِ عالیہ کے فیصلے سے ان پر لگا یہ داغ دھل گیا ہے کہ وہ کسی غلط کام میں ملوث تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||