راجیو بوفورز مقدمے سے بری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دہلی ہائی کورٹ نے بھارت کے سابق وزیر اعظم (مرحوم) راجیو گاندھی کا نام بوفورز توپوں کی خریداری میں کمیشن لینے کے مقدمے سے خارج کر دیا ہے۔ راجیو گاندھی پر الزام تھا کہ ان کے دور حکومت میں بوفورز توپوں کی خریداری کے لئے چونسٹھ کروڑ روپے کمیشن لیا گیا تھا۔ عدالت نے لندن میں رہنے والے ہندوجا برادران پر لگائے گئے دھوکہ بازی کے الزامات کو برقرار رکھا ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے سویڈن کی کمپنی اے بی بوفورز کے خلاف لگائے گئے الزامات کو بھی بحال رکھا ہے۔ مقدمے کی آئندہ سماعت تئیس فروری کو ہوگی۔ ہندوجا برادران نے دو برس قبل اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو جھوٹ قرار دیا تھا۔ بوفورز نے بھی اس مقدمے کو خارج کرانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ راجیو گاندھی کی حکومت نے سن انیس سو چھیاسی میں بوفورز کمپنی کو چار سو توپوں کا آرڈر دیا تھا۔ بھارتی تحقیقاتی ایجنسی سی بی آئی نے اس مقدمے میں دو فرد جرم داخل کی تھیں۔ پہلی فرد جرم میں اسوقت کے ڈیفنس سیکرٹری ایس کے بھٹناگر، بوفورز کے ایجنٹ ون چڈھا، اٹلی کے تاجر اوتاویو کواتروچی اور بوفورز کے اس وقت کے سربراہ مارٹن آردبو کے نام شامل تھے۔ اس کے ایک سال بعد داخل کی گئی فرد جرم میں ہندوجا بھائیوں پر بھی الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے اس معاملے میں چودہ کروڑ روپے کا کمیشن لیا تھا۔ یہاں یہ صاف کر دینا ضروری ہے کہ راجیو گاندھی کا نام ان دونوں فرد جرم میں شامل نہیں تھا۔ سی بی آئی نے راجیو گاندھی کی زندگی میں ہی ان کا نام شامل تفتیش کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ کبھی بھی ان کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے جس کے بعدعدالت نے ان کا نام مقدمے سے خارج کر دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||