ناسا ٹیسٹ:پوزیشن ہولڈر مشکوک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعظم من موہن سنگھ نے ناسا کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کا دعوٰی کرنے والے طالب علم سے اپنی مجوزہ ملاقات منسوخ کر دی ہے۔ سترہ سالہ طالب علم سوربھ سنگھ اپنے والدین کے ساتھ صدر جمہوریہ اے پی جے عبداکلام سے ملاقات کررہا تھے کہ یہ خبر پھیل گئی کہ جس امتحان کے حوالے سے اس نوجوان کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اس کا وجود ہی نہیں ہے۔ بھارتی گاؤں کے ایک طالب علم سوربھ سنگھ نے امریکہ کے خلائی سائنس کے ادارے ’ناسا‘ کے ایک امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کا دعوی کیا تھا۔ تاہم بدھ کو اس خبر پر شک و شبہ کا اظہار کیا گیا ہے۔ صدارتی محل کے باہر میڈیا کی زبردست بھیڑ سوربھ کے باہر آنے کی منتظر تھی کہ وہ اس پر کچھ وضاحت کریں گے لیکن وہ بچ کر نکل گئے۔ تھوڑی دیر بعد وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے مذکورہ طالب علم سے اپنی ملاقات منسوخ کر دی ہے۔ ایک ویب سائٹ نے ناسا کے تین اعلی افسران کے حوالے سے یہ خبر شائع کی تھی کہ سوربھ نے جس امتحان کا ذکر ہے اس کا ناسا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چند روز قبل ہی کی بات ہے تقریباً سبھی اخبارات اور ویب سائٹس پر یہ خبر سرخیوں میں تھی کہ ریاست اتر پردیش میں بلیا ضلع کے ایک طالب علم سترہ سالہ سوربھ سنگھ نے ناسا کے ’ آئی ایس ڈی ‘ یعنی انٹرنیشنل سائنس ڈسکوری کے مقابلہ کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ اس حوالے سے اس خبر کے کچھ زیادہ ہی تذکرے تھے کہ اس امتحان میں ملک کےصدر اے پی عبد الکلام اور مشہور سائنس دان کلپنا چاولہ نے حصہ لیا تھا لیکن وہ بالترتیب ساتویں اور اکیسویں نمبر پر تھے جبکہ سوربھ سنگھ نے پوری دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ صدارتی محل سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر جمہوریہ نے کبھی بھی ناسا کے کسی بھی امتحان میں حصہ نہیں لیا تھا۔ طالب علم سوربھ سنگھ اپنے والدین کے ساتھ صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام اور وزیر اعظم من موہن سنگھ سے مبارک باد لینے آئے تھے لیکن اس خبر کے گرم ہونے کے بعد انہوں نے کسی بھی نامہ نگار سے بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||