کشمیر، پاکستان، بھارت: ایک اور فلم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان موجودہ رشتوں، گزشتہ 55 برس کی تلخ تاریخ، امن و سلامتی کی کوششوں کے درمیان تین جنگیں اور ان کے اثرات پر مبنی دستاویزی فلم ’کراسنگ دا لائینز: کشمیر، پاکستان، انڈیا‘ کی نمائش ان دنوں دارالحکومت دلی میں ہو رہی ہے۔ پاکستان میں اس فلم کی نمائش بہت سے مقام پر ہوئی ہے لیکن کئی جگہوں پر اسے دکھانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس فلم کا آعاز کراچی میں ایک احتجاجی مظاہرے سے ہوتا ہے جس میں زیادہ تر نئی نسل کے لوگ کشمیر کی آزادی کے نعرے بلند کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن اچانک دوسرے سین میں ہندوستان کا ایک احتجاجی منظر ہے جس میں چند نوجوان نعرے بازی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کشمیر کے سوال پر خون بہےگا۔ فلم کی ابتدا برصغیر کے انہیں متضاد نظریات سے ہوتی ہے لیکن اس معاملے پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان گزشتہ 55 برسوں سے جاری کشیدگی اور امن مذاکرات جیسے تمام واقعات کا احاطہ کیا گيا ہے۔ فلم کے ہدایت کار پروفیسر پرویز ہوڈ بائی اور ضیا میاں ہیں۔ نئی دلی میں اس فلم کو دیکھنے کے لیے کئی مشہور شخصیات جمع ہوئی تھیں۔ ہدایت کار کے مطابق فلم میں کشمیر کے متعلق آزادانہ رائے پیش کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر دونوں ہی ممالک نے شدّت پسندی سے کام لیا ہے۔ فلم میں جنگوں اور درمیان کشیدگی کے علاوہ امن کی کوششوں کے لیے شملہ معاہد ہ، لاہور اعلامیہ اور حالیہ مذاکرات کا بھی ذکر ہے۔ فلم دیکھنے کے بعد مشہور اداکارہ نندیتہ داس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انسان کی نفسیات کتنی پیچیدہ ہے، زمین کے ایک ٹکڑے کے لیے یا پہاڑی کی ایک ایسی چوٹی کیلیے جس پر شاید ہم کبھی نہ جائیں، اسے کتنا بڑا مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔چھوٹے سے ٹکڑے کے لیے کتنی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ میری نظر میں اگر اسے حقیقت پسندی سے حل کرنا چاہیں تو بڑی آسانی سے حل ہو سکتا ہے‘۔ فلم میں نہ صرف کشمیر تنازعہ، دونوں کے درمیان کشیدگی اور دونوں جانب کی عوام پر اسکے اثرات کا بخوبی جائزہ لیا گیا ہے بلکہ اسکے حل کے لیے کچھ تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔ پرویز کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ہندوستانی مظالم اور پاکستان کی جانب سے جہاد کا نعرہ بند ہونا چاہے۔ دونوں کشمیروں کے درمیان سرحد کھول دی جائے اس طرح ممکن ہے کہ جب عوامی رابطے بحال ہوں تو یہ مسلہ سلجھ جائے۔ بھارت اور پاکستان کے دوستانہ تعلقات پر ایک فلم ''ویر زارا'' کی نمائش بھی ہندوستان میں ہو رہی ہے۔ جبکہ پرویز ہوڈ بائی کی فلم دستاویزی ہے اور اسکی نمائش چند خصوصی جگہوں پر کی جا رہی ہے۔ ایسی صورت میں زیادہ اثر کس فلم کا ہوگا ہے یہ ایک دیچسپی کا موضوع ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||