BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 October, 2004, 11:46 GMT 16:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی سائنسدانوں پر پابندی برقرار

ایران کا جوہری پلانٹ
بھارتی سائنسدانوں پر ایران کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا الزام ہے
امریکہ نے ہندوستان کے دو جوہری سائنس دانوں پر عائد کی گئی پابندیاں ہٹانے سے انکار کیا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ان دونوں سائنس دانوں نے ایران کوممنوعہ جوہری ٹیکنالوجی فراہم کی ہے۔ تاہم دونوں سائنس دان اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔

امریکہ کے نائب وزیر تجارت کینتھ جسٹر نے دہلی میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے یہ پابندی ہندوستان پر ایک ملک کے طور پر نہیں عائد کی ہے بلکہ یہ قدم دو انفرادی سائنس دانوں کے خلاف اٹھایا گیا ہے۔

امریکہ نے گزشتہ ہفتے ہندوستان کے دو جوہری سائنس دانوں ڈاکٹر سی سریندر اور ڈاکٹر وائی ایس آر پرساد سمیت 14 افراد اور اداروں پر پابندی عائد کر دی تھی۔

ڈاکٹر سریندر نے کبھی بھی ایران کا دورہ نہیں کیا ہے جبکہ ڈاکٹر پرساد ایران کی جوہری تنصیات کا تین بار دورہ کر چکے ہیں۔ دونوں سائنس داں ہندوستان کے سرکاری ادارے نیوکلیر پاور کارپوریشن کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

امریکہ نے ایران نیوکلائی عدم توسیع قانون 2000 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے یہ بیان دیا تھا کہ دونوں سائنس دانوں کے خلاف یہ پابندیاں ان جامع اطلاعات کے بعد عائد کی گئی ہیں کہ انہوں نے جنوری 1999 سے ایران کو ایسے سازو سامان فراہم کۓ ہیں جو جوہری بم کروز اور بیلسٹک میزائل بنانے کے کام آتے ہیں۔

ہندوستان نے امریکہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان پابندیوں پر نظر ثانی کرے کیوں کہ بقول اس کے سائنس دانوں کے خلاف تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔

اس دوران امریکہ دہلی میں اپنے سفارتخانے میں محکمہ تجارت کا ایک اتاشی مقرر کرے گا جو اس پہلو کی تصدیق کرے گا کہ ہندوستان کو امریکہ سے برآمد کی جانے والی اعلیٰ نوعیت کی ٹیکنالوجی صرف انہیں مقاصد کے لیے استعمال کی جا رہی ہے جن کے لیے انہیں درآمد کیا گیا ہے۔

امریکہ کے نائب وزیر تجارت کینتھ جسٹر نے بتایا کہ اس ہفتے کے آخر تک یہ اہلکار اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیں گے۔ مسٹر جسٹر نے بتایا کہ یہ دراصل اعلیٰ ٹیکنالوجی میں باہمی تجارت کو مزید فروغ دینے کا ہی طریقہ کار ہے ۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ ماضی میں اس طرح کے تجارتی اتاشی چین ، روس اور متحدہ ارب امارات میں بھی مقررکر چکا ہے۔

امریکہ نے ہندوستان میں 1998 کے جوہری دھماکوں کے بعد عائد پابندیاں ہٹا لی ہیں اور اب وہ ایسی اعلیٰ ٹیکنالوجی فراہم کرنے پر تیار ہے جن کا دوہرا استعمال میزائل اور راکٹ و‏غیرہ کی تیاری میں بھی ہو سکتا ہے۔ امریکی اتاشی اس امر کو یقینی بنائيں گے کہ امریکی ٹیکنالوجی کا جنگی سازوسامان کی تیاری میں استعمال نہ ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد