200 سکول بند کرنے کا حکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں انتظامیہ نے ایک سکول میں آگ کے باعث نوے بچوں کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد دو سو سے زائد ایسے سکولوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے جن کی چھتیں گھاس پھونس کی بنی ہیں۔ ضلعی کلکٹر رادھاکرشنن نے سکول میں آتشزدگی کے واقعہ سے متاثر ہونے والوں کے لیے کی گئی امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ جئے للیتا کے ہدایات کے تحت سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں پر سے گھاس پھونس کی چھتیں ہٹائی جا رہی ہیں۔ ایسے سکولوں کو متبادل انتظامات کا بندوبست ہونے تک بند رہنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ محکمۂ تعلیم کے چار افسران کو حکومتی حکم کی بجاآوری نہ کرنے کے تحت معطل کر دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گھاس پھونس سے بنی چھتوں والے سکولوں کو کام کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس سلسلے میں تمام نجی اور سرکاری سکولوں کی فوری انسپیکشن کی جائے گی تاکہ اس بات کا پتہ چلایا جا سکے کہ آیا سکولوں میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا گیا ہے یا نہیں؟
گھاس پھونس سے بنی چھتوں کے سبب تامل ناڈو کی ریاست میں ایک برس قبل ایک شادی ہال میں اور تین برس قبل ایک پاگل خانہ میں شدید آگ بھڑک اٹھی تھی۔ جمعہ کو کمباکونم میں سکول کو لگنے والی آگ گھاس پھونس سے بنی چھت والے باورچی خانے سے شروع ہوئی جہاں کھانا پکانے کی تیاری کی جا رہی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ آگ کا شکار ہونے والوں کی لاشیں برآمد کر کے ان کی شناخت کر لی گئی ہے البتہ بعض والدین اب بھی اپنے بچوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد بارہ بچوں کو ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا تھا جن میں سے گیارہ کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ مدراس اور ویلور کے ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیم ان پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انگریزی میڈیم سکولوں میں زیادہ فیسوں کے سبب متوسط طبقے کے بچے یہاں تعلیم حاصل نہیں کر پاتے اس لیے تامل ناڈو میں نجی سکولوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے لیکن ان سکولوں میں مناسب سہولیات میسر نہیں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||