BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 July, 2004, 10:03 GMT 15:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
200 سکول بند کرنے کا حکم
سکولوں میں حفاظتی انتظامات بہتر بنانے پر زور
تامل ناڈو کے سکولوں میں حفاظتی انتظامات بہتر بنانے پر زور
بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں انتظامیہ نے ایک سکول میں آگ کے باعث نوے بچوں کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد دو سو سے زائد ایسے سکولوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے جن کی چھتیں گھاس پھونس کی بنی ہیں۔

ضلعی کلکٹر رادھاکرشنن نے سکول میں آتشزدگی کے واقعہ سے متاثر ہونے والوں کے لیے کی گئی امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ جئے للیتا کے ہدایات کے تحت سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں پر سے گھاس پھونس کی چھتیں ہٹائی جا رہی ہیں۔

ایسے سکولوں کو متبادل انتظامات کا بندوبست ہونے تک بند رہنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

محکمۂ تعلیم کے چار افسران کو حکومتی حکم کی بجاآوری نہ کرنے کے تحت معطل کر دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گھاس پھونس سے بنی چھتوں والے سکولوں کو کام کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

اس سلسلے میں تمام نجی اور سرکاری سکولوں کی فوری انسپیکشن کی جائے گی تاکہ اس بات کا پتہ چلایا جا سکے کہ آیا سکولوں میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا گیا ہے یا نہیں؟

News image
کمباکونم میں سکول کو آگے لگنے سے متاثر ہونے والی خاتون کی آہ و فغاں

گھاس پھونس سے بنی چھتوں کے سبب تامل ناڈو کی ریاست میں ایک برس قبل ایک شادی ہال میں اور تین برس قبل ایک پاگل خانہ میں شدید آگ بھڑک اٹھی تھی۔ جمعہ کو کمباکونم میں سکول کو لگنے والی آگ گھاس پھونس سے بنی چھت والے باورچی خانے سے شروع ہوئی جہاں کھانا پکانے کی تیاری کی جا رہی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ آگ کا شکار ہونے والوں کی لاشیں برآمد کر کے ان کی شناخت کر لی گئی ہے البتہ بعض والدین اب بھی اپنے بچوں کو تلاش کر رہے ہیں۔

اس واقعہ کے بعد بارہ بچوں کو ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا تھا جن میں سے گیارہ کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ مدراس اور ویلور کے ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیم ان پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انگریزی میڈیم سکولوں میں زیادہ فیسوں کے سبب متوسط طبقے کے بچے یہاں تعلیم حاصل نہیں کر پاتے اس لیے تامل ناڈو میں نجی سکولوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے لیکن ان سکولوں میں مناسب سہولیات میسر نہیں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد