دہلی ریپ کے مجرم کون ہیں؟

بھارت
،تصویر کا کیپشناس کیس میں ملزمان کو سزائے موت دیے جانے کی حمایت میں ریلیاں کی گئیں

دہلی گینگ ریپ معاملے پر عدالت نے چار مجرموں کو موت کی سزا سنائی ہے۔ ایک ملزم کی موت ہو چکی ہے اور ایک دوسرے نابالغ مجرم کو تین سال کی سزا پہلے ہی سنائی جا چکی ہے۔

ایک نظر ڈالتے ہیں ان چھ لوگوں پر۔

رام سنگھ

رام سنگھ کو اس معاملے میں اہم ملزم بتایا گیا تھا اور وہ اس سال مارچ میں دہلی کی تہاڑ جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔

پولیس کے مطابق رام سنگھ نے خود کو پھانسی لگائی تھی لیکن مدعا علیہان کے وکلاء اور ان کے خاندان کا الزام تھا کہ رام سنگھ کو قتل کیا گیا ہے۔

33 سالہ رام سنگھ جنوبی دہلی کی روی داس جھگی جھونپڑی کالونی میں دو کمروں کے مکان میں رہتے تھے۔ وہ اس بس کے مبینہ ڈرائیور تھے جس پر 16 دسمبر 2012 کو 23 سالہ لڑکی کو ریپ کیا گیا اور اس کے دوست کو مارا پیٹا گیا۔

رام سنگھ کے پڑوسیوں کے مطابق وہ شراب پی کر اکثر جھگڑا کرتے تھے۔ ایک پڑوسی کا کہنا تھا کہ ’رام سنگھ ہمیشہ شراب پی کر جھگڑا کرتا تھا لیکن ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ ریپ جیسا سنگین جرم بھی کر سکتا ہے‘۔

ان کا خاندان 20 سال پہلے بہتر زندگی کی تلاش میں راجستھان کے ایک گاؤں سے دہلی آیا تھا۔ رام سنگھ پانچ بھائیوں میں سے تیسرے نمبر پر تھے۔ انہیں بچپن میں اسکول میں ڈالا گیا تھا لیکن انہوں نے جلدی ہی سکول چھوڑ دیا تھا۔

اس کیس میں وہ پہلے شخص تھے جنہیں گرفتار کیا گیا تھا۔

مکیش سنگھ

مکیش سنگھ
،تصویر کا کیپشنمکیش شنگھ رام سنگھ کا چھوٹا بھائی تھا۔

مکیش، رام سنگھ کے چھوٹے بھائی تھے۔ وہ اپنے بھائی کے ساتھ رہتے تھے اور کبھی کبھی بطور بس ڈرائیور اور خاکروب کام کرتے تھے۔

مکیش سنگھ پر لڑکی اور اس کے دوست کو لوہے کی سلاخوں سے پیٹنے کا الزام تھا لیکن انہوں نے الزام سے انکار کیا تھا۔

خبروں کے مطابق عدالت میں مکیش سنگھ نے کہا تھا کہ واقعہ کی رات وہ بس چلا رہے تھے جبکہ باقی چار لوگوں نے لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور اس کے دوست کی پٹائی کی۔

مکیش سنگھ کے وکیل کا دعوی ہے کہ ان کے موکل کو جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا لیکن جیل انتظامیہ نے اس سے انکار کیا تھا۔

عدالت نے مکیش سنگھ کو قصوروار مانا اور انہیں موت کی سزا سنائی۔

ونے شرما

ونے شرما
،تصویر کا کیپشنپانچوں قصورواروں میں سے صرف انہوں نے ہی اسکول کی تعلیم حاصل کی تھی

20 سالہ ونے شرما ایک فٹنس ٹرینر اور جم اسسٹنٹ تھے۔ وہ بھی سورج داس جھگی جھونپڑی کالونی میں رہتے تھے۔

پانچوں قصورواروں میں سے صرف انہوں نے ہی اسکول کی تعلیم حاصل کی تھی اور وہ انگریزی بولتے ہیں۔

اس سال موسم گرما میں ونے شرما نے کالج کے پہلے سال کا امتحان دینے کے لیے ایک ماہ کی ضمانت کی درخواست دی تھی لیکن جج نے اسے ٹھکرا دیا تھا۔ جج نے یونیورسٹی حکام اور جیل انتظامیہ سے جیل کے اندر ہی ونے کے امتحان دینے کے لیے انتظام کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت میں ونے شرما نے دعویٰ کیا تھا کہ جب یہ واقعہ ہوا تھا تب وہ بس میں نہیں تھے۔ ان کا دعوی تھا کہ وہ ایک دوسرے ملزم پون گپتا کے ساتھ موسیقی کا ایک پروگرام دیکھنے گئے ہوئے تھے۔

اکشے ٹھاکر

اکشے ٹھاکر
،تصویر کا کیپشناکشے پر واقعہ کے بعد ثبوت مٹانے کی کوشش کرنے کا الزام بھی تھا

28 سالہ اکشے ٹھاکر بہار کے رہنے والے ہیں اور وہ بس میں مددگار تھے انہیں واقعہ کے پانچ دن بعد 21 دسمبر 2012 کو بہار سے گرفتار کیا گیا تھا۔

اکشے پر ریپ، قتل اور اغوا کے ساتھ ہی واقعہ کے بعد ثبوت مٹانے کی کوشش کرنے کا الزام بھی تھا۔

وہ گزشتہ سال ہی دہلی آئے تھے خبروں کے مطابق وہ شادی شدہ ہیں اور ان کا ایک بیٹا ہے۔ ان کا خاندان بہار کے ایک گاؤں میں رہتا ہے۔

عدالت میں اکشے ٹھاکر نے بس میں موجود ہونے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ 15 دسمبر کو ہی دہلی سے اپنے گاؤں کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔

پون گپتا

پون گپتا
،تصویر کا کیپشنپون کے والد ہیرا لال نے کہا تھا کہ ان کا بیٹا بے قصور ہے

پیشے کے اعتبار سے پھل فروخت کرنے والے 19 سالہ پون گپتا نے عدالت میں دعوی کیا تھا کہ ریپ کے وقت وہ بس میں نہیں تھے اور ونے شرما کے ساتھ موسیقی کا پروگرام سننے گئے ہوئے تھے۔

عدالت میں بطور گواہ پیش ہوئے پون کے والد ہیرا لال نے کہا تھا کہ ان کا بیٹا بے قصور ہے ۔

ہیرا لال نے کہا تھا کہ واقعہ والے دن ان کا بیٹا دوپہر کو دکان بند کر کے گھر چلا گیا تھا اور شراب پی کر اور کھانا کھا کر وہ پاس کے پارک میں ایک موسیقی کے پروگرام سننے چلا گیا۔

نابالغ مجرم

چھٹا مجرم حادثہ کے وقت 17 سال کا تھا اس لیے اس پر بطور نابالغ مقدمہ چلایا گیا۔

31 اگست 2013 کو انہیں بھی ریپ اور قتل کا مجرم پایا گیا اور انہیں تین سال کی سزا ہوئی۔ بھارتی قانون کے تحت کسی بھی نابالغ کو دی جانے والی یہ سزا کی سب سے زیادہ ميعاد ہے۔

مجرم اتر پردیش کے ایک گاؤں کا رہنے والا تھا اور وہ 11 سال کی عمر میں دہلی آ گیا تھا جہاں وہ اکیلا رہتا تھا۔

اس کی ماں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس کے بیٹے سے آخری بار پھر بات ہوئی تھی جب وہ دہلی کی بس میں سوار ہوا تھا۔

نابالغ کا خاندان گاؤں کے سب سے غریب خاندانوں میں سے ہے۔اس کے والد ذہنی طور پر بیمار ہیں۔ نابالغ کی ماں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بیٹے کو دہلی میں یہ سوچ کر بھیجا تھا کہ وہ اچھی کمائی کر اپنے خاندان کی غربت دور کر سکے گا۔

خاندان کا کہنا ہے کہ اس نے کچھ سال پیسہ بھیجا اور پھر وہ غائب ہو گیا۔