بھارتی ریزرو بینک کے نئےگورنر اور کرنسی

بھارتی ریزرو بینک کے نئےگورنر رگھورام راجن نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد جو باتیں کہیں تھیں اس کا ممبئی کے شیئر بازار پر اچھا اثر پڑا ہے۔
بدھ کو عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے ڈالر کے مقابلے گرتی روپے کی قدر کو بہتر کرنے سے متعلق کئی اقدامات کا اعلان کیا تھا اور اس کا اثر بدھ کے روز ہی دیکھنے کو ملا تھا۔
جمعرات کے دن تو ابتدائی کاروبار کے دوران ممبئی کے شیئر بازار میں 414 پوائنٹس کی بہتری دیکھنے کو ملی اور انڈیکس 18،982 کی سطح تک جا پہنچا۔
نیشنل سٹاک ایکسچینج نفٹی میں بھی تقریبا 137 پوائنٹس کی برتری دیکھنے کو ملی۔ اسی طرح روپے کی قدر میں 125 پیسے کی تیزی آئی اور روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے 65.82 روپے فی ڈالر کی سطح پر آگیا۔
اس سے پہلے بدھ کو روپے میں 56 پیسے کی بہتری آئی تھی جبکہ سنسیکس 332 پوائنٹ کی برتری کے ساتھ بند ہوا تھا۔
اس سے قبل ڈالر کے مقابلے بھارتی روپے کی قدر اتنی گر گئی تھی کہ ایک ڈالر تقریبا 69 روپے کا ہوگیا تھا۔
آر بی آئی کے نئے گورنر راگھورام راجن نے بدھ کے روز روپے کی حالت بہتر کرنے اور ملک کے بینکنگ سیکٹر کے لبرلائزیشن کے لیے کئی اہم اقدامات کا اعلا ن کیا۔
اقتصادی امور کی ماہر رادھیکا راؤ کا کہنا ہے کہ ’حالیہ دنوں میں روپے کی قدر میں مستقل گراوٹ اور معاشی بازار میں عدم استحکام اعتماد کے لیے بحران ثابت ہوا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق ’اس حیثیت سے نئےگورنر نے جو راستے دکھائے اور اس سلسلے میں صحیح اور مستقل کمیونکیشن پر زور دیا وہ اچھے اقدامات ثابت ہونگے۔‘
گزشتہ مئي سے اب تک روپے کی قدر میں تقریبا بیس فیصد کی گراوٹ آئی جس سے بازار حصص میں بھی زبردست فروخت کا دباؤ رہا۔ ڈالر کی قیمت روپے کے مقابلے میں خاصی کمزور ہوتی رہی ہے جس سے بھارتی معیشت پر برا اثر پڑا ہے۔
لیکن راگھورام راجن نے عہدہ سنبھالنےکے بعد کہا کہ وہ معاشی صورت حال کو بہتر کرنے کےلیے کچھ ایسے اقدامات کریں جو بہت مقبل یا پسند نہیں ہوں گے۔
’سینٹرل بینک کے گورنر کا کام فیس بک پر لائیکس حاصل کرنا نہیں ہے۔ مجھے اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ نکتہ چینی کتنی کی جاتی ہے لیکن نکتہ چينیوں سے سیکھتے ہوئے مجھے کچھ بہتر چیزیں کرنے کی امید ہے۔‘
اس موقع پر نئے گورنر نے بینکنگ سیکٹر کو مزید لبرل بنانے کا اعلان کیا جس کے تحت اب بینکوں کو نئے برانچز کھولنے کے لیے آر بی آئی سے ہر بار اجازت لینا نہیں پڑیگا۔
لیکن بینکوں کو شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی بینک کھولنا ضروری ہوگا۔ ریزرو بینک نے اس کے لیے اگلے برس سے لائسنز جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بھارتی معیشت کے گرنے کے ساتھ ہی کچھ دن پہلے ہی بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ادارے فچ نے بھارت کی کریڈٹ ریٹنگ آؤٹ لک میں کمی کرتے ہوئے اسے ’مستحکم‘ سے کم کر کے ’منفی‘ کر دیا تھا۔
اس سے پہلے سٹینڈرڈ اینڈ پورز نے بھی پالیسی ساز فیصلوں میں بہتری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بھارت کے لیے اپنی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کی تھی۔
فچ کا اندازہ ہے کہ بھارتی معیشت اس مالی سال میں 6.5 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی جو پہلے سے لگائے گئے تخمینے 7.5 فیصد سے کم ہے۔
بھارتی صنعتی دنیا کی کئی مشہور شخصیات ملک کی اقتصادی حالت پر تشویش ظاہر کر چکی ہیں۔







