لائن آف کنٹرول کے نکیال سیکٹر میں فائرنگ

بھارت اور پاکستان کے زیرانتطام کشمیر میں تعینات دونوں ملکوں کی افواج نے ایک دوسرے پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام ایک بار پھر عائد کیا ہے۔
بھارتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی افواج نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے پونچھ بالا کوٹ سیکٹر میں سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے نکیال سیکٹر میں بلا اشتعال کے فائرنگ کی۔
انہوں نے کہا کہ فائرنگ کے باعث طلباء کو اپنے سکولوں سے گھروں کو واپسی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم مقامی انتظامیہ ان کی محفوظ واپسی کا انتظام کرنے میں کامیاب رہی۔
دوسری جانب پاکستان میں نکیال سیکٹر کے اسسٹنٹ کمشنرچوہدری محمد ایوب نے سرکاری ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ پیر کی صبح بھارتی فوج نے لنگوٹ میں بھاری ہتھیاروں سےفائرنگ شروع کی۔
بھارتی سرحدی حفاظتی فورس کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ پاکستانی افواج نے مذکورہ سیکٹر میں صبح ساڑھے گیارہ بجے فائرنگ کی جس کے جواب میں بھارتی فورسز نے بھی فائر کیا۔
بھارتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ پچھلے ستائیس روز میں پاکستان نے چھیالیس مرتبہ سیز فائرمعاہدے کی خلاف ورزی کی۔
واضح رہے کہ چھ اگست کو بھارتی علاقے میں پانچ فوجیوں کی ہلاکت کے بعد لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
بھارت میں اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان کے خلاف فوجی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے اور کشیدگی کے باعث اگلے ماہ منموہن سنگھ اور نواز شریف کے درمیان مجوزہ بات چیت کو ملتوی کردیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی ہاکی ٹیم نے بھی بھارتی دورے کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ دونوں ملکوں کی حکومتوں نے نومبر دو ہزار تین میں لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کا معاہدہ کیا تھا۔ لیکن دونوں ملک اکثر اوقات ایک دوسرے پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔
دونوں ملکوں میں سیاسی حلقوں اور مخِتلف این جی اوز نے بھارت اور پاکستان کی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کو ختم کرکے امن کی فضا قائم کی جائے۔
دریں اثنا بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تاجروں کی انجمنوں نے لائن آف کنٹرول پر غیرنقدی کاروبار کا سلسلہ معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اجناس کے بدلے اجناس کا یہ کاروبار لائن آف کنٹرول کے مختلف رابطہ مراکز کے ذریعہ اکیس اکتوبر دو ہزار آٹھ کو دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدہ کے بعد شروع کیا گیا تھا۔
اس تجارت سے جُڑے ایک تاجر آصف لون نے بی بی سی کو بتایا: 'حکومت ہند کہتی ہے پاکستانی مصنوعات درآمد نہ کی جائیں۔ لیکن یہ تجارت اعتماد کی بحالی کے لئے شروع کی گئی تھِی اور اب اس میں روکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔ اسی لئے ہم تین ستمبر سے تجارت کو احتجاج کے طور معطل کرینگے۔'







