پولیس جھوٹی، حکومت جھوٹی

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
دلی کے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر یعنی مبینہ پولیس مقابلے کے معاملے میں ایک ذیلی عدات نے ایک مسلم نوجوان شہزاد احمد کو انکاؤنٹر کے دوران ایک پولیس افسر کو قتل کرنے کا مجرم پایا ہے ۔
شہزاد کو پیر کو جرم کی نوعیت کے اعتبار سے موت کی سزا دی جاسکتی ہے یا پھر عمر قید کی سزا مل سکتی ہے ۔
پانچ برس پرانے اس انکاؤنٹر کے واقعے کے کئی اہم مقدمات کے فیصلے ابھی آنا باقی ہیں۔ اس مقدمے کا بھی فیصلہ ہونا ہے کہ انکاؤنٹر سے ایک ہفتہ پہلے دلی کے کئی مقامات پر جو بم دھماکے ہوئے تھے وہ کس طرح کیے گئے تھے، اس کے لیے بم کہاں سے آئے اور اس کے پیچھے اصل دماغ کس کا تھا۔
یہ پہلو بھی سامنے آئے گا کہ بٹلہ ہاؤس کے فلیٹ میں انکاؤنٹر میں ایم اے کے طالب علم محمد عاطف کے ساتھ پولیس کی گولی سے ہلاک ہونے والا سترہ سالہ طالب علم محمد ساجد جو گیارہویں درجے میں داخلے کے لیے دلی آیا ہوا تھا، وہ کس طرح ایک مختصر عرصے میں سکول کے داخلے کی تیاری کرتا ہوا ایک خونخوار دہشت گرد بن گیا۔
بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر سینکڑوں متنازعہ جھڑپوں کے سلسلے کا ایک قدرے تازہ واقعہ ہے۔
دلی پولیس نے جس طریقے سے اس واقعے میں کام کیا تھا اس سے بہت سے سوالات پیدا ہوئے تھے۔ بہت سی تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور متعدد سیاسی رہنماؤں نے دلی پولیس کے دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف یہ کہ یہ انکاؤنٹر فرضی تھا بلکہ اس واقعے میں گرفتار کیے گئے تمام مسلم نوجوانوں کو پھنسایا گیا ہے۔
اس حوالے سے دلی پولیس کو دفاعی رخ اختیار کرنا پڑا۔ مقامی مسلمان اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے لیکن حکومت نے اس کی اجازت نہیں دی۔ اپوزیشن نے حکومت کے موقف کی حمایت کی اور لازمی مجسٹریٹ انکوائری بھی نہیں کرائی گئی۔ انسانی حقوق کے سرکاری کمیشن نے بٹلہ ہاؤس کا دورہ کیا اور کسی سے بات کیے بغیر پولیس کے ورژن کی توثیق کر دی۔ یہ وہ حالات تھے جس نے ہر قسم کے شکوک کوتقویت بخشی۔ ہر معاملے میں سازش دیکھنے والوں کے دن پھر گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک طرف حکومت ہر طرح کی تحقیقات سے انکار کرتی رہی اور دوسری طرف حکمراں جماعت کے کئی اعلیٰ رہنما مسلمانوں میں یہ پرچار کرتے رہے کہ یہ انکاؤنٹر جعلی تھا۔
عدالت کا فیصلہ آنے کے باوجود مسلمانوں کی غالب اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ یہ واقعہ پولیس کی ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھا۔ جس وقت یہ انکاؤنٹر ہوا تھا اس وقت پی چدامبرم وزیر داخلہ تھے ۔ عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد چدامبرم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اس کیس کی فائل کا مطالعہ کیا ہے۔ اس کی تفتیش کرنے والے اہلکاروں سے الگ الگ بات کی ہے اور وہ پوری طرح مطمئن ہیں کہ یہ ایک صحیح انکاؤنٹر تھا۔
یہ حکومت کے ایک ذمےدار رہنما اور وزیر کی طرف سے اس واقعے کے بارے میں پہلا حساس اور سنجیدہ بیان ہے ۔
عدالت کے فیصلے اور چدامبرم کے اس بیان کے بعد اب مسلمانوں کے لیے یہ سوچنے کا وقت ہے۔ دہشت گردی میں مسلمانوں کے ملوث ہونے سے مسلمان اجتماعی طور پر اب تک انکار کرتے رہے ہیں ۔ اگر واقعی انڈین مجاہدین نام کی کوئی تنظیم موجود ہے جو بازاروں میں، بچوں کے پارکوں میں، سنیما گھروں میں، عبادت گاہوں اور ہسپتالوں میں بم دھماکوں سے معصوم انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار رہی ہے تو وہ کس طرح وجود میں آئی؟ کیا واقعی مسلم نوجوان بھیانک جہادی نظریات کی طرف مائل ہو رہے ہیں؟ کیا کوئی پس پردہ بعض بھارتی مسلمانوں کو دہشت گردی کے لیے منظم کر رہا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ ایسا بالکل نہ ہو اور آنے والے دنوں میں عشرت جہاں اور مالیگاؤں کی طرح اس کی بھی حقیقت کچھ اور نکلے۔ لیکن یہ سوچنا کب تک صحیح ہو گا کہ پولیس بھی جھوٹی، چدامبرم بھی جھوٹے اور عدالتیں بھی جھوٹی ہیں۔







