’عشرت جہاں پر ایک گھنٹے تک گولیاں برسائی گئیں‘

گزشتہ دنوں بھارتی تفتیشی ادارے سی بی آئی کی جانب سے سنہ 2004 کے عشرت جہاں معاملے میں گجرات کی خصوصی عدالت میں داخل کی گئی چارج شیٹ کے مطابق یہ فرضی انکاؤنٹر تھا۔
بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمدآباد سے صحافی انکر جین نے بتایا ہے کہ چارج شیٹ کے مطابق گجرات پولیس کے افسران این کے امین، جےجي پرمار، ترون باروٹ، موہن كلشو اور انجو چودھری نے 9 ایم ایم پستول، ریوالور، اے کے-47 اور سٹین گن کا استعمال کرکے عشرت جہاں اور ان کے دوستوں کو مارا تھا۔
واضح رہے کہ سنہ 2004 میں عشرت جہاں کو مارنے کے بعد احمد آباد کی خصوصی عدالت میں پیش کی گئی سی بی آئی کی پہلی چارج شیٹ میں پیش کی گئي ہیں۔
چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ گجرات پولیس کے پانچ افسران نے عشرت جہاں اور اس کے تین دوستوں کو مارنے کے لیے 67 راؤنڈ گولیاں چلائیں۔ 15 جون 2004 کی صبح 4 بجے شروع ہونے والا گولیوں کا یہ رقص ایک گھنٹے تک جاری رہا۔
اس تصادم میں عشرت کے علاوہ جاوید شیخ عرف پرانیش پلّئی، امجد علی رانا اور ذيشان جوہر اس فرضی انکاؤنٹر میں مارے گئے تھے۔
ان کو مارنے کے بعد کمانڈو موہن كلشو کو مبینہ طور پر ایک اے کے- 56 رائفل دی گئی اور کہا گیا کہ وہ این کے امین کی سرکاری گاڑی پر گولیاں ماریں اور فائرنگ کے بعد اسے امجد علی رانا کے مردہ جسم کے پاس رکھ دیا گیا تھا۔
چارج شیٹ کے مطابق بھارتی خفیہ ادارے آئی بی اور گجرات پولیس نے ذيشان جوہر کو 48 دن سے اپنے پاس قیدی بنا کر رکھا ہوا تھا۔امجد علی ان کے پاس گزشتہ 20 دنوں سے تھے جبکہ عشرت اور جاوید 12 تاریخ کو گجرات آئے تھے، جنہیں کرائم برانچ نے پکڑ لیا تھا۔

سی بی آئی نے عدالت کو بتایا ہے کہ آئی بی حکام راجندر کمار، پی متل، ایم کے سنہا اور راجیو وانكھیڑے کے خلاف اضافی چارج شیٹ دائر کی جائے گی اور ان کے خلاف تحقیقات کی اجازت مانگی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن آخر کیوں ایک فرضی تصادم میں 19 سالہ کالج طالبہ کو مار ڈالا گیا؟ ممبئی کے گرو نانک خالصہ کالج کی طالبہ عشرت جہاں کی موت کے پیچھے کیا وجہ تھی؟ایسے کئی سارے سوالات کے جواب سی بی آئی اپنی ضمنی چارج شیٹ میں 26 جولائی کو دے گی۔
اپنی پہلی چارج شیٹ میں سی بی آئی نے کہا ہے کہ گجرات پولیس کے کچھ افسران نے عشرت کو مارنے سے منع کیا تھا۔
تصادم کے ایک دن پہلے پولیس انسپکٹرز ڈي ایچ گوسوامی اور كے ایم واگھیلا نے احمد آباد کرائم برانچ کے ڈپٹی کمشنر ڈی جی ونجارا سے کہا تھا کہ عشرت کو جانے دیا جائے کیونکہ براہ راست دہشت گردی سے اس کا تعلق نہیں ہے۔
چارج شیٹ کے مطابق پولیس انسپكٹر نے ونجارا کو کہا تھا کہ لڑکی کا قتل ایک بڑی غلطی ہوگی۔
چارج شیٹ کے مطابق دو پولیس افسران نے اپنے اعلی حکام کے حکم کی مخالفت کی اور عشرت اور اس کے دوستوں پر گولی چلانے سے انکار کر دیا تھا۔ پولیس انسپکٹر ابراہیم چوہان اور کمانڈو موہن نانجي کا بھی بیان چارج شیٹ میں درج ہیں۔







