عشرت جہاں کیس: تفتیش کاروں کو دھمکیاں

بھارت کی ریاست گجرات میں نوبرس قبل ایک انیس سالہ طالبہ عشرت جہاں اور تین دیگر افراد کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر کی تفتیش اب آخری مرحلے میں ہے۔
سی بی آئی کے سربراہ اجیت سنہا نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ عدالت میں فرد جرم داخل کیے جانے سے قبل سی بی آئی کے تفتیش کاروں کو موت کی دھمکیاں ملی ہیں۔
فرضی انکاؤنٹر کے اس معاملےمیں سی بی آئی گجرات پولیس کے ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل سمیت کئی اعلی افسروں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
مرکزی تفیتیشی بیورو یعنی سی بی آئی کا کہنا ہے کہ جون 2004 میں احمدآباد کے نواح میں ہونے والا یہ واقعہ دراصل ایک جعلی تصادم تھا اور جن لوگوں کو لشکر طیبہ کا دہشت گرد بتا کر ہلاک کیا گیا تھا وہ در اصل پہلے سے ہی پولیس اور خفیہ ایجبنٹوں کی تحویل میں تھے۔
اس سلسلے میں سی بی آئی نے انٹیلیجنس بیورو کے ایک اسپیشل ڈائرکٹر سے بھی پو چھ گچھ کی ہے۔
اس دوران سی بی آئی کے تفتیش کاروں کو موت کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔
اجیت سنہا نے بتایا کہ تفتیشی بیورو چار جولائی سے پہلے ملزمان کے خلاف عدالت میں فرد جرم داخل کر دے گا۔ انھوں نے کہا ’ہم نے مہاراشٹرکی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ دھمکیوں کے پیش نظر ہمارے تفتیش کاروں کو تحفظ فراہم کرے۔‘
اس دوران گجرات ہائی کورٹ نے ریاستی پولیس کے ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پی پی پانڈے کی پیشگی ضمانت کی درخواست کو مستر کر دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سی بی آئی انہیں تلاش کر رہی ہے اور عدالت نے انہیں مفرور قرار دیا ہے۔
عشرت جہاں کے وکیل مکُل سنہا نے کہا کہ ’سی بی آئی کے پاس اب پورا اختیار ہے اور پی پی پانڈے کو فرد جرم داخل ہونے سے پہلے گرفتار کیا جانا چاہیئے۔‘
انیس برس کی عشرت جہاں ممبئی کے ایک کالج کی طالبہ تھی۔ 2004 میں عشرت کو تین دیگر افراد کے ساتھ احمدآباد کے مضافات میں پولیس نے ہلاک کر دیا تھا۔
گجرات کے ایک مجسٹریٹ نے اس واقعے کی تفتیش کے بعد عشرت اور دیگر تین نوجوانوں کی ہلاکت کو بہیمانہ قتل قرار دیا تھا۔ بعد میں ہائی کورٹ نے اس معاملے کو سی بی آئی کے حوالے کر دیا تھا۔
سی بی آئی نے اس معاملے میں اب تک انسدادِ دہشت گردی سیل کے سربراہ سمیت کئی اعلی افسروں کو گرفتار کیا ہے۔
حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ کانگریس سی بی آئی کو نریندر مودی کی حکومت کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

پارٹی کے سینیئر رہنما ارون جیٹلی نے کہا ’صرف عشرت کے ہی نہیں کئی دوسرے معاملوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سی بی آئی ایک سیاسی ہتھیار بن چکی ہے۔‘
لیکن کانگریس نے اس الزام کوم مسترد کر دیا ہے۔ پارٹی کے رہنما دگ وجے سنگھ کہتے ہیں کہ ’اگر گجرات کی حکومت کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے تو وہ پھر تفتیش سے ڈر کیوں رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’جب سی بی آئی کانگریس کے خلاف کوئی تفتیش کرے تو وہ غیر جانب دار ہے لیکن جب یہی تفتیش بی جے پی کے کسی فرد کے خلاف ہو رہی ہو تو وہ کانگریس نواز بن جاتی ہے۔‘
عشرت جہاں کے انکاؤنٹر کا معاملہ سیاسی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
سی بی آئی جب فرد جرم داخل کرے گی تو صرف اس سے انکاؤنٹر کےاس واقعے کی حقیقت ہی نہیں سامنے آئے گی بلکہ اس سے اس سوال کا جواب بھی مل سکے گا کہ اگر یہ انکاؤنٹر جعلی تھا تو اس کا مقصد کیا تھا۔
سی بی آئی اسی طرح کے دس سے زیادہ پُر اسرار تصادموں کی جانچ کر رہی ہے ۔







