اڈوانی کا استعفیٰ واپس لینے سے انکار

بھارت میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر ترین رہنما لال کرشن اڈوانی نے پارٹی کے عہدوں سے استعفیٰ واپس لینے سے انکار کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ لال کرشن ایڈوانی نے پیر کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
لال کرشن اڈوانی بظاہرگجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو بی جے پی کی انتخابی مہم کے لیے حمکت عملی کی تشکیل کے لیے بنائی گئی کمیٹی کا سربراہ مقرر کرنے پر ناراض ہیں۔
اڈوانی نریندر مودی کو انتخابی مہم کی مکمل ذمہ داری دیے جانے کی مخالفت کر رہے تھے اور اطلاعات کے مطابق اسی لیے انہوں نے گوا میں پارٹی کی قومی مجلس عاملہ کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔
لال کرشن اڈوانی کا فیصلہ بی جے پی کے لیے بری خبر ہے کیونکہ وہ پارٹی کے بانیوں میں سے ایک ہیں اور بی جے پی کو قومی سطح پر اقتدار تک پہنچانے کا سہرا انہی کے سر باندھا جاتا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے لال کرشن ایڈوانی کے استعفے کو مسترد کیا ہے اور پارٹی کے سینیئر رہنما انہیں منانے کے لیے ان سے ان کے گھر میں ملے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق لال کرشن ایڈوانی نے استعفیٰ واپس لینے سے انکار کر کے پارٹی کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔
این ڈی ٹی وی چینل کے مطابق انہوں نے ان کے پاس آنے والے پارٹی رہنماؤں کو بتایا کہ نریندر مودی’بھارت کے لیے موزوں رہنما نہیں ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نریندر مودی نے پیر کو کہا تھا کہ ان کی لال کرش ایڈوانی کے ساتھ فون پر’طویل بات چیت ہوئی ہے اور انہیں اپنا فیصلہ تبدیل کرنے کے لیے کہا ہے‘۔
مودی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ایل کے ایڈوانی پارٹی کے کارکنوں کو ’مایوس‘ نہیں کریں گے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات سے پہلے ایل کے ایڈوانی کے استعفے نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
تاہم پارٹی کی رہنما سشما سوراج نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ ’پارٹی میں کوئی بحران نہیں‘ ہے۔’ہم سب اکٹھے ہیں۔ ہم سب ایک ہیں اور اہم ایل کے ایڈوانی کی دعاوں سے آگے بڑھیں گے۔‘
بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ کے نام ایک خط میں لال کرشن اڈوانی نے کہا تھا کہ بی جے پی نے اب جو سمت اختیار کی ہے اس میں وہ اپنے لیے جگہ تنگ محسوس کر رہے ہیں۔
’میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ اب یہ وہ اصولوں والی پارٹی نہیں رہی جو اٹل بہاری واجپئی، شیاما پرساد مکھرجی اور دین دیال اپادھیائے نے قائم کی تھی، کچھ عرصے سے مجھے پارٹی کے کام کاج کے طریقے اور اس کی سمت کو تسلیم کرنے میں دشواری ہو رہی تھی، اب زیادہ تر رہنما صرف اپنےایجنڈے کے لیے کام کر رہے ہیں‘۔
ایل کے ایڈوانی کے تبصرے کو نریندر مودی پر تنقید سمجھا جاتا ہے۔ مودی آئندہ انتخابات میں بی جے پی کی انتخابی مہم چلائیں گے جس سے وہ وزیرِاعظم کے عہدے کے لیے امیدوار بننے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔
نریندر مودی کو ایک متحرک اور پر اثر رہنما کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جنہوں نے گجرات کو ایک معاشی قوت بنایا لیکن وہ تقسیم کرنے والی شخصیت بھی ہیں جن کی شہرت کو 2002 میں ان کی دورِ حکومت میں مسلمان مخالف فسادات کی وجہ سے نقصان پہنچا۔
ان فسادات میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ نریندر مودی تشدد کو روکنے میں اپنی ناکامی کو رد کرتا ہے۔







