کشمیری شہری لیاقت شاہ ضمانت پر رہا

دہلی کی ایک عدالت نے اس کشمیری شہری کو ضمانت پر رہا کر دیا ہے جسے پولیس نے شہر میں دہشت گردی کا ایک بڑا منصوبہ بنانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
عدالت نے لیاقت شاہ کو 20,000 روپے کے مچلکے اور بھارت سے باہر نہ جانے کی شرط پر ضمانت دی۔
کشمیر شہری لیاقت شاہ کو ہر ماہ کپوارا میں مقامی پولیس تھانے میں حاضری دینی ہوگی۔
عدالت نے انھیں اپنی رہائش گاہ بھی تبدیل کرنے سے بھی منع کیا ہے۔
سید لیاقت شاہ کا تعلق بھارت کے زیرِانتظام کشیر سے ہے لیکن شدت پسندی کے دور میں وہ کئی برس قبل پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر چلے گئے تھے۔
لیاقت شاہ حکومت کی بازآباد کاری کی پالیسی کے تحت نیپال کے راستے سے بھارت واپس آ رہے تھے اور تبھی دہلی پولیس نے انھیں شہر کے ایک ہوٹل سے گرفتار کرنے کا دعوی کیا تھا۔
بھارتی حکومت کی بازآباد کاری کی پالیسی کے تحت کشمیر کے جو شدت پسند لائن آف کنٹرول پار کر کے دوسری جانب چلے گئے تھے ان کے خلاف اگر کوئی سنگین کیس درج نہیں ہے تو وہ بھارت واپس آسکتے ہیں۔
لیاقت شاہ بھی اسی پالیسی کے تحت بھارت واپس آ رہے تھے لیکن پولیس کا کہنا تھا کہ وہ دہلی میں ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس نے ان کے قبضے سے ہتھیار بھی بر آمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
جموں کشمیر کی حکومت اور لیاقت شاہ کے اہل خانہ نے ان کی گرفتاری پر سخت احتجاج کیا تھا۔
اس احتجاج کے بعد حکومت نے اس معاملے کی تفتیش کا حکم نیشنل انویسٹیگیٹیو اتھارٹی کو دیا جس نے تفتیش کے بعد کہا کہ وہ لیاقت کی ضمانت کی درخواست کی مخالفت نہیں کرے گی۔
دہلی کی عدالت نے اسی بنیاد پر لیاقت شاہ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔







