روس میں توہین مذہب کے قانون کی منظوری

روسی صدر پوتین نے چرچ کے ساتھ اچھے روابط پیدا کر لیے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنروسی صدر پوتین نے چرچ کے ساتھ اچھے روابط پیدا کر لیے ہیں

روس میں ارکان پارلیمان نے اس قانون کو منظوری دیدی ہے جس میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے شخص کو مزید سخت سزا دینے کی بات کہی گئی ہے۔

روسی پارلیمان کے ایوان زیریں ڈوما نے اسے منگل کے روز منظور کیا تھا اور قانون بننے کے لیے اسے ایوان بالا سے منظور کے بعد صدر کے پاس بھیجا جائےگا۔

گزشتہ برس روس کے معروف بینڈ ’پسی رائٹ‘ نے ماسکو کے ایک مرکزی چرچ میں روسی صدر ولاد میر پوتن کے خلاف اپنے نغموں سے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جس کے بعد ہی اس بل کے مسودہ کو تیار کیا گيا تھا۔

چرچ کے اندر اس پرفارمنس کے بعد سے ’پسی رائٹ‘ کے بعض ارکان اب بھی جیل میں قید ہیں۔

نئے قانون کے مطابق مذہب کی توہین کرنے والے کو تین برس قید تک کہ سزا یا پھر تقریباً ساڑھے نو ہزار ڈالر تک کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا جا سکے گا۔

روس میں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر پوتن بھی اس بل کے حامی ہیں اور پارلیمان کے ارکان کی اکثریت صدر پوتن کے حامیوں کی ہے۔

اس بل میں ان مذاہب کی بات کہی گئی ہے جو روسی تاریخ کی وراثت کا اہم حصہ ہیں۔ اس میں عیسائیت، اسلام، یہودیت اور بدھ ازم جیسے مذاہب شامل ہیں۔

انسانی حقوق کے علمبرداروں اور مذہب کی توہین سے متعلق نئے مجوزہ قانون پر نکتہ چینی کرنے والے بعض ارکان کا کہنا ہے کہ اس بل کی زبان بہت مبہم ہے اور اس سے غیر قصورواروں وں کو بھی پھنسایا جا سکتا ہے۔

کمیونسٹ پارٹی کے ایک رکن پارلیمان یوری سنلیشکوف کا کہنا ہے کہ یہ تو مذہب کے نہ ماننے والوں اور عقیدہ رکھنے والوں کے درمیان نفرتیں پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔