افضل گورو: دلّی اور کشمیریوں کا وِن وِن

آخری وقت اشاعت:  اتوار 10 فروری 2013 ,‭ 21:57 GMT 02:57 PST

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہاں کے علیحدگی پسندوں کو بھارت نواز سیاست کے خلاف ایک اہم اور تاریخی سنگ میل حاصل ہوگیا ہے

بھارتی پارلیمان پر حملے کے مبینہ ملزم افضل گورو کی پھانسی کو یہاں کے مختلف حلقے مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔

تاہم مبصرین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ یہ واقعہ بھارت کی حکمران کانگریس اور کشمیر کی مزاحمتی تحریک کے لئے یکساں طور پر مفید ثابت ہوگا۔ بعض دیگر حلقوں کو خدشہ ہے کہ اس واقعہ سے کشمیر میں مسلح مزاحمت دوبارہ مقبولیت حاصل کرلے گی۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ افضل کو پھانسی پرلٹکا کر بھارتی کانگریس نے حریف جماعت بی جے پی کے خلاف انتخابات سے کچھ ماہ قبل میدان مار لیا ہے۔ حریت کانفرنس (عمرگروپ) اور عسکری تنظیم لشکر طیبہ نے بھی کہا ہے کہ ’کشمیریوں کا خون انتخابی مفادات کے حصول کے لئے بہایا جارہا ہے۔‘

فی الوقت حالات پر پولیس اور فوج کی پوری گرفت ہے اور پچھلے چند سال کے دوران سیکورٹی پابندیوں نے کشمیری سماج کو جکڑ کر رکھ دیا ہے۔ سنیچر کو پھانسی کی خبر پھیلتے ہی کرفیو نافذ کیا گیا اور انٹرنیٹ تک رسائی بند کر دی گئی۔ خفیہ پولیس نے پہلے ہی مخبروں کا جال بچھا رکھا ہے اور کسی بھی امکانی صورتحال سے بہت پہلے اس کا توڑ کیا جاتا ہے۔

ایسی صورتحال میں کسی بڑے عوامی ردعمل کی توقع تو نہیں ہے، لیکن تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہاں کے علیحدگی پسندوں کو بھارت نواز سیاست کے خلاف ایک اہم اور تاریخی سنگ میل حاصل ہوگیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ افضل کی پھانسی کشمیریوں اور نئی دلّی کے لئے وِن وِن یعنی جیت ہے، یعنی دونوں کا سیاسی یا نظریاتی فائدہ ہوگا۔

مصنف اور کالم نگار پی جی رسول کہتے ہیں کہ ’یہاں کی آزادی پسند قیادت کو ایک اور ہیرو مل گیا اور ان کی تحریک کو نئی روح حاصل ہوگئی ہے۔ کشمیر کی تاریخ میں اب افضل گورو کو مقبول بٹ سے بھی بڑا مقام حاصل ہوجائے گا۔‘

"یہاں کی آزادی پسند قیادت کو ایک اور ہیرو مل گیا اور ان کی تحریک کو نئی روح حاصل ہوگئی ہے۔ کشمیر کی تاریخ میں اب افضل گورو کو مقبول بٹ سے بھی بڑا مقام حاصل ہوجائے گا۔"

مصنف اور کالم نگار پی جی رسول

واضح رہے مقبول بٹ کو بھارت کی خفیہ پولیس کے ایک افسر کے قتل کے جرم میں گیارہ فروری اُنیس سو چوراسی کے روز دلی کی تہاڑ جیل میں ہی پھانسی پر لٹکایا گیا تھا۔ اس واقعہ کے چار سال بعد کشمیر میں مسلح تحریک کا آغاز ہوا تھا۔

کیا افضل کی پھانسی کا بھی وہی اثر ہوگا؟ اس کے جواب میں قانون کے پروفیسر ڈاکٹر شیخ شوکت کہتے ہیں کہ ’ایسے واقعات اثر چھوڑتے ہیں اور پھر حالات نیا رُخ لیتے ہیں۔ مقبول بٹ کی پھانسی کے فوراً بعد ہی ردعمل نہیں ہوا تھا۔ نوجوان نسل کے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ بھارتی عدلیہ سے انصاف کی امید نہیں۔ یہ جذبات ہمیشہ تشدد کے نظریات کو تقویت دیتے ہیں۔اس بارے میں وقت کا تعین مشکل ہے۔‘

حساس مبصرین کا کہنا ہے کہ کشمیر میں پچھلے دس سال سے مسلح تشدد کا طریقہ غیرمقبول ہورہا تھا ، ’لیکن افضل کی پھانسی تشدد کو دوبارہ مقبول بناسکتی ہے۔‘

پاکستان فی الوقت کشمیر میں پراکسی وار کے تمام امکانات کو خارج کرچکا ہے، لیکن صحافی محمد ہارون کہتے ہیں کہ ’مسئلہ مسلح تشدد کے وسائل کا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ لوگ تشدد کو آخری چارہ کار سمجھنے لگیں گے۔ جب آبادی جنگ پر آمادہ ہوجائے تو علاقائی قوتوں کو مداخلت کا موقع مل جاتا ہے۔ افضل کو پھانسی دینے جیسے کام کرکے اس سب کے لئے خود بھارت میدان ہموار کررہا ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>