
افضل گرو کی پھانسی پر اسلام آباد میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا
بھارتی پارلیمان پر حملے کے مبینہ منصوبہ ساز افضل گرو کی پھانسی کے خلاف پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں سنیچر کو احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے ہیں لیکن ان میں بہت کم تعداد میں مظاہرین نے شرکت کی۔
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی حکومت نے افضل گورو کی پھانسی کے خلاف سنیچر سے ہی تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور مرتضیٰ درانی نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ سوگ کے دوران ریاست کا پرچم سرنگوں رہے گا۔
انھوں نے کہا کہ کسی کو بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
اسی دوران پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں افضل گورو کی پھانسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔
مظفرآباد میں کشمیری پناہ گزینوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں چند سو افراد نے شرکت کی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مشتعل مظاہرین بھارت مخالف اور گورو اور کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے اور انہوں نے بھارتی پرچم بھی نذر آتش کیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظفرآباد کے علاوہ میرپور، راولاکوٹ اور کوٹلی میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گیے لیکن ان میں بھی لوگوں کی بہت کم تعداد نے شرکت کی۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بھی جماعت الدعوۃ کے زیرِ اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں لگ بھگ ایک سو افراد نے شرکت کی۔ یہ مظاہرین بھی بھارت کے خلاف اور جہاد کے حق میں نعرے لگارہے تھے۔
ادھر شدت پسند گروپ لشکرِ طیبہ نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ وہ افضل گورو کو پھانسی دیے جانے کا بدلہ لے گا۔
لشکرِ طیبہ کے ترجمان ڈاکٹر عبداللہ غزنوي نے بی بی سی کے نامہ نگار کو فون پر بتایا کہ ’افضل کو پھانسی سے چڑھانے سے ہی سب کچھ ختم نہیں ہوا ہے۔ بہت جلد ہی بھارت کو اس اقدام کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’عدالتی عمل مکمل کیے بغیر اور اتنی جلد بازی میں انہیں پھانسی پر چڑھایا جانا ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ بھارت میں تمام حکومتیں اقتدار میں رہنے کے لیے مسلمانوں کے جذبات کی قدر نہیں کرتی ہیں۔‘






























