
بال ٹھاکرے ہندوں کی سختگیر جماعت شیوسینا کے بانی ہیں
بھارت میں ریاست مہاراشٹر کی علاقائی جماعت شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ منتخب ہونے والے نئے صدر پرنب مکھرجی کو اپنے معیاد کی شروعات افضل گرو کی رحم کی اپیل خارج کرکے کرنی چاہیے۔
بال ٹھاکرے نے پرنب مکھرجی کی کامیابی پر انہیں مبارکباد پیش کی اور کہا کہ بطور صدر ان سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔
انہوں نے کہا ’سب سے پہلے تو افضل کی رحم کی اپیل کو مسترد کریں اور انہیں پھانسی دیں۔ جس دہشتگرد نے بھارت کی خودمختاری پر حملہ کیا تھا اسے مزید زندہ نہ رہنے دیا جائے۔‘
بال ٹھاکرے نے کہا ’ آپ ( پرنب مکھرجی) کو یہ مقدس فریضہ تو انجام دینا ہی ہوگا۔‘
واضح رہے کہ دو ہزار دو میں بھارت کی پارلیمان پر حملے کے جرم میں افضل گرو کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔
اس سزا کی معافی کے لیے ان کی طرف سے صدر کے پاس کی رحم کی جو اپیل گئي تھی اس پر ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
بھارتی قانون کے مطابق اگر سپریم کورٹ بھی موت کی سزا کی توثیق کر دیتی ہے تو پھر آخری راستہ صدر کے پاس رحم کی اپیل ہے۔ اگر وہ معاف کردے تو بہتر ورنہ موت کی سزا پر عمل کیا جائے گا۔
"سب سے پہلے تو افضل کی رحم کی اپیل کو مسترد کریں اور انہیں پھانسی دیں۔ جس دہشت گرد نے بھارت کی خودمختاری پر حملہ کیا اسے زندہ نا رہنے دیا جائے۔ آپ ( پرنب مکھرجی) کو یہ مقدمس فریضہ تو انجام دینا ہی ہوگا۔"
بال ٹھاکرے
افضل گرو کی رحم کی اپیل کئی برسوں سے ایوان صدر میں پڑی ہے اور سابق صدر پرتیبھا پاٹل نے اس پر کوئي فیصلہ نہیں کیا تھا۔
اس موقع پر مسٹر ٹھاکرے حکومت پر بھی نکتہ چینی کی اور کہا کہ سونیا گاندھی کی کمزور قیادت کے سبب وزیراعظم منموہن سنگھ کمزور ہیں۔






























