افضل گورو کی پھانسی کے بعد کشمیر میں کرفیو

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 فروری 2013 ,‭ 10:50 GMT 15:50 PST

افضل گرو کو بھارتی پارلیمان پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا تھا

بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کی سازش کے مجرم محمد افضل گورو کو سنیچر کی صبح دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی ہے۔

بھارت کے وزیر داخلہ سشیل کمار شندے اور سیکرٹری داخلہ نے افضل گورو کی پھانسی کی تصدیق کی ہے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے شمالی قصبے سوپور سے تعلق رکھنے والے افضل گورو کی پھانسی کے بعد کشمیر میں حفاظتی اقدام کے تحت کرفیو لگا دیا گیا ہے اور وادی کے اہم شہروں میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

پچاس سالہ افضل گورو کو 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمان پر ہونے والے حملے کا منصوبہ ساز یا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا تھا اور دس برس سے زائد عرصہ پہلے دسمبر دو ہزار دو میں انہیں اس جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

ابتدائی طور پر 20 اکتوبر 2006 کو اس سزا پر عملدرآمد ہونا تھا لیکن ان کی اہلیہ کی جانب سے صدر سے رحم کی اپیل پر یہ معاملہ زیرِ التوا تھا۔ انہیں اب پھانسی دینے کا فیصلہ بھارت کے صدر پرنب مکھرجی کی جانب سے رحم کی اپیل مسترد کرنے کے بعد کیا گیا۔

افضل گورو کے کیس میں کب کیا ہوا؟

  • تیرہ دسمبر دو ہزار ایک: پانچ شدت پسندوں نے دلی میں پارلیمان پر خونریز حملہ کیا۔ پانچوں حملہ آوروں کے علاوہ نو افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے۔
  • پندرہ دسمبر دو ہزار ایک: پولیس نے حملے کی سازش رچنے کے الزام میں افضل گورو کو گرفتار کیا۔ ان پر شدت پسند تنظیم جیش محمد سے وابستگی کا الزام تھا۔ اسی سلسلےمیں دلی یونیورسٹی کے ایک لیکچرر ایس اے آر گیلانی کو بھی گرفتار کیا گیا لیکن بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔
  • چار جون دو ہزار دو: چار ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد۔ ملزمان میں افضل گورو کے علاوہ گیلانی، شوکت گورو اور ان کی اہلیہ افشاں گورو بھی شامل۔
  • اٹھارہ دسمبر دو ہزار دو: دلی کی ایک عدالت نے پارلیمان پر حملے کے صرف ایک سال کے اندر افضل گورو کو پھانسی کی سزا سنائی۔ گیلانی اور شوکت حسین گورو کو بھی سزائے موت سنائی گئی۔
  • انتیس اکتوبر دو ہزار تین: دلی ہائی کورٹ نے ذیلی عدالت کے فیصلے کی توثیق کردی۔ لیکن مسٹر گیلانی کو رہا کر دیا گیا۔
  • چار اگست دو ہزار پانچ: سپریم کورٹ نے افضل گورو کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کو صحیح قرار دیا لیکن شوکت گورو کی موت کی سزا کم کرکے دس سال قید میں تبدیل کر دی گئی۔
  • بیس اکتوبر دو ہزار چھ: اس تاریخ کو افضل گورو کی سزا پر عمل ہونا تھا اور تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں، لیکن اسی دوران ان کی اہلیہ نے صدر جمہوریہ سے رحم کی اپیل کی جس کی وجہ سے سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا۔
  • بارہ جنوری دو ہزار سات: سپریم کورٹ نے افضل گورو کی نظرثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
  • تیس دسمبر دو ہزار دس: شوکت حسین گورو کی سزا پوری، انہیں جیل سے رہا کردیا گیا۔
  • دس دسمبر دو ہزار بارہ: وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے کہا کہ وہ پارلیمان کے سرمائی اجلاس کے بعد افضل گورو کے کیس پر غور کریں گے۔
  • تین فروری دو ہزار تیرہ: صدر جمہوریہ نے رحم کی اپیل مسترد کردی۔
  • نو فروری دو ہزار تیرہ: افضل گورو کو تہاڑ جیل میں پھانسی دینے کے بعد وہیں دفن کردیا گیا۔

محمد افضل گورو دِلی کی تہاڑ جیل کے مخصوص وارڈ میں قید تھے اور پھانسی کے بعد انہیں جیل کے احاطے میں ہی دفنا دیا گیا ہے۔

ادھر افضل گورو کے لواحقین نے بھارتی صدر اور وزیرداخلہ سے درخواست کی ہے کہ افضل کی میت ان کے سپرد کی جائے۔

افضل کے بھائی محمد یٰسین گورو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ ایک وحشیانہ حرکت ہے کہ پھانسی کی سزا دی گئی اور ہمیں خبر بھی نہیں کی گئی۔ لیکن اب ہمیں ماتم کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ ہمارے گاؤں کو فوجی چھاونی بنادیا گیا ہے۔‘

یٰسین گورو کا کہنا ہے کہ انہوں نے مقامی پولیس حکام کی مدد سے بھارت کے صدر اور وزیرداخلہ سے افضل کی میت کی واپسی کے لیے درخواست دی ہے۔

ادھر افضل گورو کی پھانسی پر کشمیر کے مختلف علاقوں سے احتجاج کی اطلاعات ملی ہیں۔ پھانسی کی خبر پھیلتے ہی کشمیر میں کشیدگی پھیل گئی اور جگہ جگہ لوگوں نے مظاہرے کیے۔

افضل کے آبائی قصبے سوپور میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں اور پولیس کی فائرنگ سے چار افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے دو کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

حریت کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی نے اس واقعے پر تین روز تک ہڑتال کی کال دی ہے جبکہ حکام نے انہیں نئی دلّی میں حراست میں لیا ہے جبکہ کشمیر میں شبیر احمد شاہ ، نعیم احمد خان اور جاوید احمد میر سمیت کئی علیٰحدگی پسند رہنماؤں کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔

کشمیر میں کرفیو اور سکیورٹی پابندیوں کی وجہ سے عام زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئی ہے۔ سری نگر اور بڑے قصبوں میں بھاری تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

سوپور کے شہریوں نے بتایا ہے کہ افضل کے لواحقین اور مقامی باشندوں نے ان کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کا اہتمام کیا ہے جس کے لیے انہوں نے اعلیٰ پولیس حکام کے ساتھ رابطہ کیا ہے۔

دسمبر 2001 میں بھارتی پارلیمان پر حملہ حالیہ بھارتی تاریخ کے متنازع ترین واقعات میں سے تھا۔

13 دسمبر 2001 کو دہلی میں پانچ شدت پسندوں نے بھارتی پارلیمان کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس حملے میں ایک مالی اور آٹھ پولیس اہل کار مارے گئے تھے جبکہ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پانچوں حملہ آوروں کو ہلاک کر ڈالا تھا۔

بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستانی عسکریت پسند تنظیم جیشِ محمد پر لگایا تھا اور کہا کہ اسے پاکستان کی سرپرستی حاصل ہے۔

پاکستان نے اس کی تردید کی لیکن دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اس حد تک خراب ہو گئے کہ سرحدوں پر دس لاکھ کے قریب فوجی تعینات کر دیے گئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>