
افضل گرو دلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں
بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی حکمران جماعت کے سربراہ فاروق عبداللہ نے سنیچر کے روز افضل گورو کے لیے سزائے موت کی حمایت کی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ بھارتی صدر پرتبھا پاٹل کریں گی، کیونکہ افضل گورو کی رحم کی درخواست پر وہی حتمی فیصلہ کر سکتی ہیں۔
افضل گورو کو تیرہ دسمبر دو ہزار ایک میں بھارتی پارلیمان پر ہوئے مسلح حملے کے سلسلے میں سزائے موت کا سامنا ہے۔
قانون ساز اسمبلی کے باہر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا ’میں تو ہندوستانی ہوں، میں چاہتا ہوں جس نے بھی ملک کے خلاف کام کیا اسے اس کی قیمت ادا کرنی چاہیے لیکن افضل گورو کی درخواست صدر کے پاس زیِر غور ہے اور صدر ہی فیصلہ کریں گی‘۔
حکمران جماعت کے صدر کا یہ بیان ان کے بیٹے اور کشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کے مؤقف سے مختلف ہے۔
عمرعبداللہ نے پچھلے سال ٹوِٹر پر افضل کی معافی کی بالواسطہ حمایت کر کے سیاسی بحث چھیڑ دی تھی۔
تامِل ناڈو کی قانون ساز اسمبلی میں جب سابق بھارتی ویزاعظم راجیو گاندھی کے قتل میں موت کی سزا پانے والے افراد کی معافی کے حق میں قرارداد پاس کی گئی تو وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے سوالیہ انداز میں لکھا تھا کہ اگر جموں کشمیر کی اسمبلی بھی اسی طرح کی قرارداد افضل گورو کے حق میں پیش کرے تو کیا بھارت میں اسی طرح کی خاموشی رہے گی؟
فاروق عبداللہ
"میں تو ہندوستانی ہوں، میں چاہتا ہوں جس نے بھی ملک کے خلاف کام کیا اسے اس کی قیمت ادا کرنی چاہیے لیکن افضل گورو کی درخواست صدر کے پاس زیِر غور ہے اور صدر ہی فیصلہ کریں گی"
اس کے بعد ایک آزاد ممبر اسمبلی عبدالرشید نے ایوان میں افضل گورو کی حمایت میں قرارداد پیش کی جسے مسترد کیا گیا۔
عبد الرشید کا کہنا ہے ’آج بھی میں نے قرارداد لانے کا فیصلہ کیا ہے، جو لوگ افضل کی معافی کی حمایت کرتے ہیں، یہ ان کے ضمیر کا امتحان ہوگا‘۔
واضح رہے افضل گورو کے حق میں کشمیر میں علیحدگی پسندوں نے احتجاجی مظاہرے کئے جبکہ بھارتی سول سوسائیٹی نے بھی دلّی میں ’افضل بچاؤ‘ مہم چھیڑ رکھی ہے۔
لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یٰسین ملک نے تو یہاں تک کہا ہے کہ افضل گورو کو پھانسی پر لٹکایا گیا تو کشمیر پھر سے مسلح تشدد کا شکار ہوسکتا ہے۔
یٰسین ملک نے بی بی سی کو بتایا ’بھارت کو یاد رکھنا چاہیئے کہ اٹھائیس سال قبل جب مقبول بٹ (کشمیر کی مسلح تحریک کے بانی) کو تہاڑ جیل میں پھانسی پر لٹکایا گیا تو کشمیری نوجوانوں میں انتقامی جذبات پیدا ہوگئے اور یہاں مسلح تشدد کی لہر پھیل گئی‘۔






























