’افضل گورو کو جلد پھانسی دیں‘

بھارتی پارلیمان پرحملے کی نویں برسی کے موقع پر حزب اختلاف کی بڑی جماعت بی جے پی نے افضل گرو کو جلد سے جلد پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ’نہ صرف حملے کی زد میں آنے والے افراد بلکہ پوری قوم کو صبر آ سکے۔‘
لیکن جواب میں بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا کہ افضل گورو کی پھانسی کے سوال پر وہ کئی مرتبہ وضاحت دے چکے ہیں: ’یا تو بی جے پی کو بات سمجھ میں نہیں آتی یا وہ بہرا ہونے کا ناٹک کرتے ہیں، میں کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ ہر کیس ترتیب کے مطابق صدر کے سامنے پیش کیا جارہا ہے۔‘
بی جے پی کی سرکردہ رہنما سشما سواراج نے کہا کہ ’ قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ جب اس پارلیمان پر حملے کے جرم میں سپریم کورٹ افضل گورو کو سزا سناچکی ہے، اور اس کی توثیق بھی ہوچکی ہے، تو پھر انہیں پھانسی دینے کے سوال پر حکومت کیوں خاموش ہے۔۔۔سزا دیے بغیر صرف خراج عقیدت پیش کردینا محض رسم نبھانا ہے، اس لیے حکومت کو سزا دینے کا کام بھی کرنا چاہیے تاکہ حملے میں مارے جانے والوں کے لواحقین کے ساتھ ساتھ قوم کو بھی صبر مل سکے۔‘
شدت پسندوں نے تیرہ دسمبر سن دو ہزار ایک کو پارلیمان پر حملہ کیا تھا جس میں آٹھ سکیورٹی اہلکاروں سمیت نو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ بھارتی تفتیش کاروں نے اس حملے کے لیے جیش محمد کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا اور حملے کی سازش تیار کرنے کے جرم میں افضل گورو کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔
اس حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہت کشیدہ ہوگئے تھے اور دونوں طرف سے سرحد پر بڑی تعداد میں فوجیں تعینات کر دی گئی تھیں۔
سن دو ہزار پانچ سے افضل گورو کی رحم کی درخواست دلی کی حکومت کے پاس سرد خانے میں پڑی ہوئی تھی لیکن ممبئی پر حملوں کے بعد انہیں پھانسی دینے کے مطالبات میں شدت آئی تھی۔ اب ان کی رحم کی درخواست صدر جمہوریہ کہ پاس ہے۔
صدر جمہوریہ کے پاس سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے کے لیے رحم کی تقریباً پچاس درخوستیں زیر التواء ہیں، اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کئی مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ان درخواستوں پر اسی ترتیب سے غور کیا جائے گا جن میں یہ حاصل ہوئی تھیں۔
اس فہرست میں دو درجن سے زیادہ قیدی افضل گرو سے آگے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملک میں آخری مرتبہ دو ہزار پانچ میں پھانسی کی سزا پر عمل کیا گیا تھا اور انیس سو پچانوے سے لیکر اب تک صرف دو لوگوں کو پھانسی دی گئی ہے۔







