افضل گورو: عمرعبداللہ پھانسی کے مخالف

افضل گرو
،تصویر کا کیپشنبھارتی حکومت نے افضل گرو کو پھانسی دینے کی سفارش کی ہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے بدھ کے روز اشارہ کیا ہے کہ وہ افضل گورو کو پھانسی دینے کے سرکاری فیصلے کے خلاف جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں قرارداد منظور کروائیں گے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر عمرعبداللہ نے لکھا ہے : If J&K assembly had passed a resolution similar to the Tamil Nadu one for Afzal Guru would the reaction have been as muted? I think not

(اگر جموں کشمیر اسمبلی نے بھی تامل ناڈو کی تقلید کرتے ہوئے افضل گورو کے حق میں قرارداد منظور کی ہوتی تو کیا (بھارت کا) ردعمل ایسا ہی خاموش ہوتا؟ مجھے نہیں لگتا! )

واضح رہے کہ سابق بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کے قتل میں قصوروار پائے گئے تین ملزموں کی رحم کی اپیل صدر کی طرف سے مسترد کیے جانے پر تمل ناڈو حکومت نے ایک قرار داد میں صدر سے نظرثانی کی اپیل کی ہے۔

اس معاملے میں مدارس ہائي کورٹ کے ایک حکم کے بعد سزائے موت پر عمل کو کچھ ہفتوں کے لیےملتوی کر دیا گيا ہے۔

عمر عبداللہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب اسمبلی کے رکن انجینئیر عبدالرشید شیخ نے اگلے ہفتے ہونے والے قانون ساز اسبملی کے اجلاس میں قرارداد لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

عمر عبداللہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنعمر عبداللہ بھی قرارداد کے حامی دکھائی دیتے ہیں

مسٹرشیخ نے بی بی سی کو بتایا: '' ہم پارلیمنٹ پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ ہمیں نہیں پتہ کہ افضل گورو ملوث ہیں یا نہیں۔ لیکن میں یہ کہتا ہوں کشمیر میں ایک لاکھ لوگ مارے گئے، کیا بھارتی حکومت کو ان ایک لاکھ لوگوں کی ہلاکت میں ملوث ایک بھی افضل گورو نظر نہیں آیا؟''

واضح رہے کہ انجینئر رشید شمالی کشمیر کے لنگیٹ حلقے سے آزاد اُمیدوار کے طور الیکشن جیت چکے ہیں، اور عمرعبداللہ کی حکومت کو باہر سے حمایت دیتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا: '' میں سبھی اراکین اسمبلی سے اپیل کروں گا کہ وہ اس قرارداد کو منظور کروانے میں آگے آئیں، یہ ان کا اخلاقی فریضہ ہے۔''

قابل ذکر ہے کہ اپوزیشن رہنما محبوبہ مفتی نے پہلے ہی اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت ہند اور صدرِِ جمہوریہ کو اس بارے میں اپنے ردعمل سے آگاہ کرچکی ہیں۔ '' پوری دُنیا سزائے موت کے خلاف ہے، ہم اسی جذبے کے تحت صدر صاحبہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ افضل کی رحم کی اپیل پر ہمدردانہ غور کریں۔''

شمالی کشمیر کے سوپور علاقہ کے محمد افضل گورو کو عدالت نے تیرہ دسمبر دو ہزار ایک کو بھارتی پارلیمان پر مسلح حملے کی سازش میں ملوث قرار دے کر انہیں سزائے موت سنائی تھی۔ ان کی اور ان کی اہلیہ تبسم کی طرف سے رحم کی اپیل فی الوقت صدرِ جمہوریہ کے پاس زیرالتوا ہے۔

کشمیری علیٰحدگی پسندوں نے تو پہلے افضل کو سنائی گئی سزائے موت کے خلاف اپنا شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

سیّد علی گیلانی اور محمد یٰسین ملک سمیت سبھی لیڈروں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ لیکن یہ پہلا موقعہ ہے کہ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ سمیت سبھی ہند نواز سیاسی گروپوں نے بھی افضل کے حق میں مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔