
اس کیس کے ملزمان کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ ہورہا ہے
دلی میں اجتماعی زیادتی کی شکار ہونے والی لڑکی کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ متاثرہ طالبہ کی حالت اب پہلے سے کچھ بہتر ہے۔
جمعرات کوصفدرجنگ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بيڈي اتھاني نے ایک پریس کانفرنس میں متاثرہ طالبہ سے متعلق ایک میڈیکل بلیٹن جاری کیا۔
ڈاکٹر اتھاني نے کہا ’متاثرہ طالبہ کا بلڈ پریشر، سانس لینے کی رفتار جیسی اہم چیزیں قابل قبول حد تک درست ہیں اور ان کی حالت اب مستحکم ہے‘۔
ان کے مطابق لڑکی اب ہوش میں ہیں اور وہ اشارے سے بات بھی کر رہی ہیں لیکن ان کی سب سے بڑی تشویش انفیکشن ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ انفیکشن کا خطرہ ابھی بھی ہے اور اس کے لیے اگلے دس دنوں تک مریض کی نگرانی کرنی ہوگی۔‘
اس سے پہلے بدھ کو دوسری بار لڑکی کا آپریشن کیا گیا تھا اور انفیکشن سے متاثرہ ان کی پوری آنت کو باہر نکال دیا گیا تھا۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اتوار کو جنسی زيادتی کے بعد جب لڑکی کو ہسپتال میں لایا گیا تو ان کی پانچ فیصد آنتیں ہی سلامت تھیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت اب بھی نازک ہے۔ میڈیا کے مطابق متاثرہ لڑکی کے بھائی نے بتایا کہ اس کی بہن نے ایک کاغذ پر لکھ کر کہا ’ماں میں جینا چاہتی ہوں۔‘
ادھر دلی کی وزير اعلٰی شیلا دیکشت نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو حکومت علاج کے لیے انہیں بیرونی ملک بھی لے جانے کے لیے تیار ہے۔
میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا ہے ’یہ صرف دلی کی حکومت ہی نہیں بلکہ مرکزی حکومت کا بھی کہنا ہے کہ ایک بار لڑکی کی حالت مستحکم ہو جائے اور وہ خطرے سے باہر آجائیں تو ڈاکٹر جہاں کہیں بھی کہیں گے ہم انہیں علاج کے لیے لے جائیں گے۔
"یہ صرف دلی کی حکومت ہی نہیں بلکہ مرکزی حکومت کا بھی کہنا ہے کہ ایک بار لڑکی کی حالت مستحکم ہو جائے اور وہ خطرے سے باہر آجائیں تو ڈاکٹر جہاں کہیں بھی کہیں گے ہم انہیں علاج کے لیے لے جائیں گے۔ "
شیلا دیکشت
گزشتہ روز دلی ہائي کورٹ نے دلی پولیس کو حکم دیا تھا کہ بس میں اجتماعی جنسی زيادتی کا شکار ہونے والی طالبہ کے معاملے کی تفتیشی رپورٹ دو روز کے اندر پیش کی جائے۔
ہائي کورٹ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کا پولیس اور عدلیہ سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ عدالت نے اس کیس کی جلد سماعت کے لیے پانچ مختلف فاسٹ ٹریک عدالتیں تشکیل دینےکا اعلان کیا تھا۔
اس دوران جمعرات کے روز اس واقعے کے خلاف دارالحکومت دلی کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔
خواتین کی مختلف تنظیموں اور یونیورسٹیز کی طلبہ یونینوں نے خواتین کے ساتھ ہونے والی زيادتیوں پر قابو پانے کے لیے موثر کارروائي کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ واقعہ اتوار کی رات ساڑھے نو بجے کے آس پاس اس وقت پیش آیا تھا جب مذکورہ لڑکی اور اس کا ایک دوست چارٹرڈ بس میں سوار ہوئے تھے۔
اسی بس میں سوار کچھ افراد نے لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کی، پھر دونوں کو مارا پیٹا گیا اور لڑکی سے جنسی زیادتی کی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد دونوں کو بس سے باہر پھینک دیا گیا تھا۔






























