زیادتی کے ملزمان کے لیے سزائے موت کا مطالبہ

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 دسمبر 2012 ,‭ 03:56 GMT 08:56 PST

دلی میں ایک تئیس سالہ طالبہ سے بس میں مبینہ طور اجتماعی زیادتی کے معاملے پر منگل کو پارلیمان میں سبھی جماعتوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور بعض ممبر پارلیمان نے ملزم کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثناء اس معاملے میں دلی پولیس نے بس کے ڈرائیور رام سنگھ کو پیر کو رات گئےگرفتار کرلیا ہے۔

اس معاملے پر سبھی سیاسی جماعتوں نے حکومت کی جانب سے بیان کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت فورا دلی پولیس کے سربراہ نیرج کمار کو ان کے عہدے سے برطرف کرے۔

پارلیمان میں اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں نے جنسی استحصال کے مجرموں کو لیے سخت ترین سزا اور جنسی استحصال کے مقدمات کی جلد سے جلد سماعت کے مطالبہ کیا ہے۔

اس معاملے پر اپنا بیان دیتے ہوئے وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جنسی استحصال کے معاملے میں موجودہ قانون میں ترمیم کی جائے گی اور اس معاملے میں ملزمان کو جلد سے جلد گرفتار کر کے سزا دی جائے گی۔

لوک سبھا میں حزب اختلاف کی رہنما سشما سوراج نے عصمت دری کرنے والوں کو موت کی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ممبر پارلیمان نے پارلیمان کی معمول کی کاروائی کو روک کر اپنے غصے کا اظہار کیا اور اس معاملے پر خصوصی بحث کرائی۔

لوک سبھا سپیکر میرا کمار کا کہنا تھا دلی میں اجتماعی عصمت دری کا یہ واقعہ ڈرا دینے والا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس معاملے میں سخت قدم اٹھانے چاہیے اور یہی ' اس ایوان کے سبھی ممبران بھی چاہتے ہیں'۔

وہیں سشما سوراج کا کہنا تھا ’اب وقت آگیا ہے کہ جنسی استحصال کرنے والے کو موت سزا دینے کا قانون بنایا جائے۔ دارالحکومت دلی میں جنسی استحصال کے واقعات روکنے کے لیے حکومت کیا کر رہی ہے‘۔

"اب وقت آگیا ہے کہ جنسی استحصال کرنے والے کو موت سزا دینے کا قانون بنایا جائے۔ دارالحکومت دلی میں جنسی استحصال کے واقعات روکنے کے لیے حکومت کیا کر رہی ہے۔"

سشما سوراج

کانگریس کی رکن اور قومی کمیشن برائے خواتین کی سابق صدر گرجا ویاس نے پارلیمان میں کہا ہے کہ ' دلی کی بسوں غیر محفوظ ہیں'۔ انہوں نے کہا ہے کہ جنسی استحصال کے معاملے میں عدالت کی کاروائی جلد سے جلد کرانے کا قانون ہونا چاہے۔

وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اور سئینر وکیل رام جیٹھ ملانی نے کہا ہے کہ حکومت کو فورا دلی پولیس کے کمشنر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا اعلان کرنا چاہیے۔

وہیں پولیس کے سربراہ نیرج کمار نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پولیس جتنی جلدی ہوسکا اتنی جلدی ایک ملزم کو پکڑ پانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں پولیس کی طرف سے کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے۔

اس سے پہلے دلی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ سی سی ٹی وی کیمرے کے ذریعے بس کا سراغ مل گیا ہے اور ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زیادتی کا شکار ہونے والی طالبہ اپنے مرد دوست کے ہمراہ بس میں سفر کر رہی تھیں۔ وہ دونوں اتوار شب فلم دیکھ کر واپس آ رہے تھے کہ اُن پر بس میں چھ سے سات افراد نے حملہ کیا اور دونوں کو بری طرح مار پیٹ کر بس سے باہر پھینک دیا گیا۔

دونوں ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور اطلاعات ہیں کہ خاتون کی حالت ’انتہائی تشویشناک‘ ہے۔

دلی کی وزیرِاعلیٰ شیلا دکشت کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث ہونے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جبکہ دلی کی وزیر برائے سماجی بہبود کرن واليا نے کہا ہے کہ شہر کی تمام بسوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں گے۔

بھارت کے قومی خواتین کمیشن کی صدر ممتا شرما کا کہنا ہے کہ وہ وزیرِاعلیٰ شیلا دکشت سے اس معاملے پر بات کریں گی اور خواتین کمیشن اس کی تحقیقات کرےگا۔

انہوں نے کہا، ’شہر میں ایسے واقعات حکومت اور پولیس کی جانب سے نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ اگر منيركا جیسے گنجان آباد علاقے میں اس طرح کا واقعہ پیش آتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پولیس ہوشیار نہیں ہے‘۔

دلی میں ہر سال جنسی تشدد کے سینکڑوں واقعات ریکارڈ کیے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے اس شہر کو بھارت میں جنسی زیادتی کا مرکز بھی کہا جاتا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق دلی میں عوامی مقامات پر جنسی طور پر ہراساں کرنے، زیادتی اور اغوا کے واقعات کی شرح بڑھنے کے باعث خواتین کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>