
بھارت کے سنہ چوہتر کے جوہری دھماکے کے بعد کینیڈا نے 1976میں بھارت پر جوہری پابندیاں عائد کیں تھیں
کینیڈا اور بھارت کے درمیان طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت کینیڈا کی کمپنیاں جوہری ری ایکٹرز میں استعمال ہونے والا یورینیم بھارت کو فروخت کر سکیں گی۔
اس معاہدے کا اعلان دلی میں کینیڈا کے وزیراعظم سٹیفن ہارپر اور ان کے بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ نے کیا۔
دونوں ممالک کے درمیان دو سال پہلے جوہری توانائی میں تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے تاہم کینیڈا کے خدشات کی وجہ سے اس پر عمل درآمد رکا ہوا تھا۔
کینیڈا کا خدشہ تھا کہ بھارت سویلین مقاصد کے لیے دیے جانے والے یورینیم کو جوہری ہتھیار بنانے میں استعمال نہ کرے۔
یورینیم کی فروخت کے معاہدے کے اعلان کے موقع پر کینیڈا کے وزیراعظم نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ توانائی کے میدان میں کینیڈا سپر پاور ہے اور بھارت کی توانائی کی ضروریات بہت زیادہ ہیں، اس معاہدے کے تحت کینیڈا کی کمپنیاں بھارت کی جوہری توانائی کی ترقی کرتی ہوئی صعنت کو مواد، آلات اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی بہتر پوزیشن میں آ گئیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں ڈھائی ارب ڈالر کے متعدد معاہدوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ان معاہدوں کی وجہ سے ہمارے ایکسپوٹرز کے لیے مزید دروازے کھلیں گے جس کی وجہ سے دنوں ممالک میں معاشی ترقی ہو گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے۔
بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ کے مطابق’ہم نے توانائی کے شعبے کا انتخاب کیا ہے خاص طور پر کینیڈا کی تیل اور گیس کی درآمدات اور اس کے ساتھ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں تعاون کی بہت زیادہ گنجائش ہے۔ وزراء کی سطح کے مذاکرات سٹریٹیجک مذاکرات کو آگے بڑھانے اور مخصوص منصوبوں کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہونگے۔‘
بھارت نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے آئندہ بیس سال کے دوران مزید تیس جوہری توانائی کے پلانٹ لگائے گا۔
خیال رہے کہ کینیڈا نے بھارت سے جوہری شعبے میں تعاون پر اس وقت پابندی عائد کر دی تھی جب بھارت نے کینیڈا کے تعاون سے لگائے گئے جوہری ریکٹر سے حاصل کردہ پلوٹونیم کو سمائلنگ بدھا کے نام سے انیس سو چوہتر میں کیے گئے ایٹمی تجربے میں استعمال کیا تھا۔
ان تجربات کے بعد پوری دنیا نے بھارت سے ایٹمی شعبے میں تعاون پر پابندی عائد کر دی تھی۔ لیکن یہ پابندی دو ہزار آٹھ میں امریکہ سے جوہری شعبے میں تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کے بعد اٹھا لی گئی تھیں۔






























