
بھارتی کشمیر میں منتخب پنچائیتی ارکان خوفزدہ ہیں
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ہزاروں پنچوں اور سرپنچوں نے حکومت سے کہا ہے کہ اگر چوبیس گھنٹوں کے اندر انہیں سیکورٹی فراہم نہ کی گئی تو وہ اجتماعی طور مستعفی ہوجائیں گے۔
دوسری حانب ان میں سے بعض کا کہنا ہے کہ سیکورٹی گارڈز کی وجہ سے پنچایت ممبروں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ریاست کے تیس ہزار پنچایت اراکین کو فرداً فرداً سیکورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔
نئی دلّی سے شائع ہونے والے ایک انگریزی میگزین ’تہلکہ‘ میں کشمیری عسکری رہنما سیّد صلاح الدین کا ایک انٹرویو شائع ہوتے ہی پنچایت ممبروں نے سکیورٹی کے معاملے پر سخت موقف اختیار کیا اور حکومت کو چوبیس گھنٹوں کا الٹی میٹم دے دیا۔
اس انٹرویو میں صلاح الدین سے منسوب جواب میں کہا گیا ہے کہ: ’حکومت ہند نے پنچایت ممبروں کا استحصال کیا ہے اور پنچایت الیکشن میں لوگوں کی شمولیت کو بھارت کے حق میں کشمیریوں کی حتمی رائے کے طور پر پیش کیا گیا۔'
انٹرویو کے مطابق مسٹر صلاح الدین نے کہا ہے کہ ’حکومت ہند کی اسی استحصالی پالیسی کی وجہ سے پنچایت ممبروں پر حملے ہوئے اور یہ حملے آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔‘
یہ بیان شائع ہوتے ہی جموں کشمیر پنچایت کانفرنس کا ایک اجلاس جموں میں ہوا جس میں حکومت سے کہا گیا کہ وہ سیکورٹی کے معاملے پر چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر موقف واضح کرے۔
"حکومت ہند نے پنچایت ممبروں کا استحصال کیا ہے اور پنچایت الیکشن میں لوگوں کی شمولیت کو بھارت کے حق میں کشمیریوں کی حتمی رائے کے طور پر پیش کیا گیا۔حکومت ہند کی اسی استحصالی پالیسی کی وجہ سے پنچایت ممبروں پر حملے ہوئے اور یہ حملے آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔"
پنچایت ممبروں کے ایک رہنما امتیاز افضل بیگ نے بی بی سی کو بتایا: ’جس کو سلامتی کا خطرہ ہے اسے سیکورٹی فراہم کرنا حکومت کا فرض ہے۔‘
جموں راجوری ضلع کی ایک بستی سے منتخب شفیق میر نے بتایا: ’یہ دھمکی کسی عام آدمی نے نہیں دی ہے۔ یہ سنگین معاملہ ہے لیکن حکومت اس کو نظرانداز کررہی ہے۔‘
تاہم بعض پنچایت ممبروں کا کہنا ہے کہ سیکورٹی کے معاملہ کو خواہ مخواہ طول دیا جارہا ہے اور اصل مسئلہ پنچایتوں کو با اختیار بنانے کا ہے۔
پنچایت ممبروں کی ایک اور انجمن ’جموں کشمیر پنچایت ایسوسی ایشن‘ کے جنرل سیکریڑی خورشید ملک نے بتایا: ’پنچایت ممبر عام آدمی ہوتا ہے۔ دکاندار اپنی دکان کے باہر پولیس والے کو رکھے گا تو کام کیسے کریگا۔ ہماری پنچایتوں میں تینتیس فی صد خواتین ہیں، ان کے ساتھ مرد سیکورٹی والے کیسے رہیں گے۔ ہم تو لوگوں کے چُنے ہوئے ہیں، اگر کچھ لوگ دھمکی دیتے ہیں، ان کو دیکھنا ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر کی نہیں بلکہ عام روز مرہ مسائل کی بات کرتے ہیں۔‘
دریں اثنا کشمیر کی وزارت داخلہ نے تمام پولیس تھانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں پنچایت ممبروں کے ساتھ رابطے میں رہیں تاکہ کسی بھی مشکل صورتحال میں انہیں سیکورٹی فراہم کی جا سکے۔
واضح رہے جموں کشمیر پولیس کی افرادی قوت ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہے ۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تیس ہزار پنچایت ممبروں کو سیکورٹی فراہم کرنا مشکل ہے۔






























