کشمیر: ملازموں کی حکومت مخالف تحریک

آخری وقت اشاعت:  پير 15 اکتوبر 2012 ,‭ 14:20 GMT 19:20 PST

مضاہرین نے حکومت کے خلاف سخت ناراضگی ظاہر کی ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہزاروں سرکاری ملازمین نے وادی کے تجارتی مرکز لال چوک میں حکومت مخالف مظاہرے کیے ہیں اور علیٰحدگی پسند رہنماؤں نے بھی ان کے مسائل پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

مظاہرین تنخواہوں اور ریٹائرمنٹ کی حد میں اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

مظاہرین میں خواتین بھی شامل تھیں، اور انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ بچوں سمیت سڑکوں پر آئیں گی۔

ملازمین کی ایک انجمن کے سربراہ عبدالقیوم وانی نے اس موقعہ پر اعلان کیا کہ وہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے سول سوسائٹی اور علیٰحدگی پسندوں سے بھی رابطہ کرینگے۔

اِدھر علیحدگی پسند رہنما میر واعظ عمر فاروق نے اعلان کیا ہے کہ وہ عوامی اور انتظامی مسائل پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

پولیس نے ملازم مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور مظاہرین پر رنگین پانی چھڑک کر جلوس کو منتشر کر دیا۔

واضح رہے کشمیر میں چھ لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین ہیں، جن کی تنخواہوں پر حکومت کا سالانہ بارہ ہزار کروڑ روپے کا خرچہ آتا ہے۔ حکومت نے مالی مشکلات کو دیکھتے ہوئے نئے ملازمین کے لیے پینشن کی سکیم ختم کر دی ہے۔

کشمیری ملازمین کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت ہند کے براہ راست کنٹرول والے محکموں میں کام کرنے والے ملازمین کو دی جانے والی سہولتوں سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>