کشمیری دیہاتوں میں’ظلم کی داستانیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 4 اکتوبر 2012 ,‭ 12:43 GMT 17:43 PST

سروے رپورٹ کے مطابق ہلاک شدہ یا لاپتہ پانچ سو دو افراد میں سے چار سو ننانوے مسلمان ہیں

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں شہریوں کی انجمن برائے انصاف نے شمالی کشمیر کے کپوارہ اور بارہ مولہ کے پچاس دیہات کا سروے کرنے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ ان دیہاتوں میں پچھلے بائیس سال کے دوران ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کے پانچ سو سے زائد معاملے قلم بند کیے گئے۔

مسلح تصادم کے دوران جائیداد کو پہنچے نقصان کا تخمینہ سو کروڑ سے زائد بتایا گیا ہے جبکہ دو ہزار اڑتالیس افراد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ مختلف فورسز نے حراست کے دوران ان پر جسمانی تشدد کیا۔

فوج یا دوسری فورسز کے ذریعے جبری مزدوری کا شکار افراد کی تعداد چھ ہزار آٹھ سو اٹھاسی بتائی گئی ہے۔

معروف بھارتی صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن گوتم نولکھا نے کشمیری رضا کاروں کے ہمراہ جمعرات کو یہ رپورٹ سرینگر میں جاری کی۔ ان کا کہنا ہے تھا کہ انسانی حقوق کے سرکاری کمیشن کو پہلے ہی یہ رپورٹ بھیج دی گئی تھی۔

پریس کانفرنس کے دوران گوتم نولکھا نے بتایا کہ ’ہلاک کیے گئے یا لاپتہ پانچ سو دو افراد میں سے چار سو ننانوے مسلمان ہیں، دو کشمیری بولنے والے ہندو (پنڈت) ہیں جبکہ ایک سکھ ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق لائن آف کنٹرول کے قریب واقع بارہ مولہ اور کپواڑہ اضلاع میں پچھلے بائیس سال کے دوران سولہ خواتین سمیت چار سو سینتیس افراد مارے گئے جبکہ پینسٹھ افراد لاپتہ ہوگئے۔

ہلاک یا لاپتہ کُل پانچ سو دو افراد میں سے ایک سو بانوے عام شہری اور دو سو پچیس عسکریت پسند تھے۔ چار پولیس اہلکار، چار مُخبر اور بارہ سابق عسکریت پسند بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔

انسانی حقوق کےکارکنان کے مطابق یہ تفصیلات رضاکاروں نے جمع کی ہیں

کل ہلاکتوں میں سے تین سو بیس کے لیے سرکاری ایجنسیوں کو ذمہ دار بتایا گیا ہے جبکہ چوراسی لوگوں کے قتل کے لیے مسلح عسکریت پسندوں کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ سینتیس ہلاکتوں کا الزام نامعلوم مسلح افراد پر ہے۔

عسکریت پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے چوراسی افراد میں اکاون عام شہری تھے، اُنیس عسکریت پسند تھے، دو کا تعلق کشمیر پولیس کے ساتھ تھا، چار فوج یا پولیس کے اعانت کار تھے جبکہ آٹھ سابقہ عسکریت پسند تھے۔ گمشدہ افراد میں سے تیئس ایسے ہیں جو مختلف مقامات سے لاپتہ ہیں جبکہ بیالیس افراد لائن آف کنٹرول پر ہی غائب ہوگئے۔

شہریوں کی انجمن برائے انصاف یا سٹیزنز کونسل فار جسٹس (سی سی جے) کی اس رپورٹ میں بارہ مولہ اور کپواڑہ کے پچاس دیہات کا تفصیلی خاکہ بھی پیش کیا گیا ہے۔

اس کے مطابق صرف ایک لاکھ اکسٹھ ہزار نفوس پر مشتمل پچاس گاؤں کی آبادی میں فوج اور نیم فوجی عملہ کی ایک سو پینتالیس تنصیبات ہیں۔ ان میں وسیع رقبے پر پھیلے فوج کے کیمپ بھی ہیں۔

بائیس سرکاری اور غیرسرکاری عمارات بھی فوج یا نیم فوجی عملے کے زیرِتصرف ہیں۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ یہ فوجی تنصیبات دوہزار سینتالیس کنال رقبہ زمین پر قابض ہیں اور اس کے علاوہ ستاون ایسے مقامات ہیں جہاں مشتبہ افراد پر جسمانی تشدد کیا گیا۔ سی سی جے کا دعویٰ ہے کہ ان دیہات میں ستاون ٹارچر مراکز قائم ہیں۔

رپورٹ کے ابتدائیہ میں کہا گیا ہے کہ ان دیہات کا سروے کرنے کے لیے مقامی رضاکاروں نے کام کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے معلومات فراہم کرنے میں ان کا تعاون کیا۔

رپورٹ جاری کرتے وقت گوتم نولکھا نے کہا کہ’صرف پچاس دیہات میں ظلم کی پانچ سو داستانیں ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ جموں کشمیر کی حکومت اور انسانی حقوق کے سرکاری کمیشن کو بھی پیش کی جارہی ہے۔ رپورٹ میں متاثرین کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ان پر ہوئی زیادتیوں کا معقول معاوضہ اور مکمل انصاف چاہتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ پچھلے چند سے گوتم نولکھا کو کشمیر آنے کی اجازت نہیں دی گئی اور ا نہیں کئی بار ایئرپورٹ سے ہی واپس دلّی بھیج دیا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>