
وی سی ڈی پر زور زبردستی کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
بھارت کی زیرِ انتظام ریاست جموں و کشمیر میں مقامی سطح پر سکیورٹی کے لیے بنائی جانے والی ولیج ڈیفنس کمیٹیوں کے ہتھیاروں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ان کمیٹیوں کا قیام انیس سو پچانوے میں عمل میں آیا تھا اور اس کی وجہ دور دراز پہاڑی علاقوں میں شدت پسند حملوں میں اضافہ اور سکیورٹی فورسز کی ان سے نمٹنے میں ناکامی تھی۔
ان حالات میں شدت پسندوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے ریاستی حکومت نے مقامی رضاکاروں کو جمع کر کے انہیں ہتھیار اور انہیں استعمال کرنے کی تربیت دی تھی۔
ریاست کے سابق پولیس سربراہ کلدیپ كھوڈا نے اس عمل کی ابتداء کی تھی، جو انیس سو پچانوے میں ڈوڈا ضلع میں پولیس کے اعلی عہدیدار تھے۔
جموں میں تقریبا پانچ ہزار ایسی کمیٹیاں ہیں جن کے تقریباً انتیس ہزار اراکین ہیں جو زیادہ تر ریاست کی اقلیتی ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں وی ڈی سی رضاکاروں کے بارے میں متواتر یہ خبریں آ رہی ہیں کہ وہ اپنے ہتھیار اور اختیارات کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں۔ ان پر جبراً پیسہ وصولنے اور زبردستی کرنے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔
ڈوڈہ ضلع کے سیداللہ ماگرے کا کہنا ہے کہ ’وی ڈی سی کے قیام کے کچھ عرصے بعد ہی ان کے اراکین کی جانب سے ہتھیاروں اور اختیار کے غلط استعمال کی رپورٹ آنے لگی تھیں۔'
بندوق کے زور پر۔۔۔
"میں جنگل سے گزر رہا تھا. میرے سامنے ہمارے گاؤں کے وی ڈی سی کے دو اراکین وہاں ڈیرہ لگائے ہوئے بكرےوالوں کے پاس گئے اور اپنی بندوق دکھا کر ان سے ایک بکرا لے گئے۔ وہ بیچارے مجبور تھے اور کچھ نہ کر سکے۔"
عوام میں وی ڈی سی کا اتنا خوف ہے کہ انہوں نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر ہی کوئی بات کی۔
ڈوڈہ ضلع کے بھیلا گاؤں کے ایک بزرگ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’میں جنگل سے گزر رہا تھا کہ میرے سامنے ہمارے گاؤں کے وی ڈی سی کے دو اراکین وہاں ڈیرہ لگائے ہوئے بكرےوالوں کے پاس گئے اور اپنی بندوق دکھا کر ان سے ایک بکرا لے گئے۔ وہ بیچارے مجبور تھے اور کچھ نہ کر سکے‘۔
کشتواڑ ضلع کے ایک صحافی نے بتایا کہ ایسے کئی واقعات اس ضلع کے دور دراز علاقوں میں ہوتے رہتے ہیں، لیکن کسی میں پولیس کو رپورٹ کرنے کی ہمت نہیں ہوتی کیونکہ وہ وی ڈی سی والوں سے ڈرتے ہیں۔
اس مسئلہ پر بات کرتے ہوئے جموں پولیس کے انسپکٹر جنرل دلباغ سنگھ نے کہا ’ہمارے سامنے اگر رپورٹ آئے تو ہم اس پر ضرور کارروائی کریں گے۔ ان رپورٹوں کے بعد ہم نے وي دی سي کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ ہم اس کی بھی تفتیش کر رہے ہیں کہ جن کو اسلحہ دیا گیا ہے ان کی ذہنی حالت کیسی ہے‘۔
پولیس انسپکٹر جنرل نے بتایا کہ کچھ ایسی بھی اطلاعات ملی ہیں کہ جنہیں ہتھیار دیے گئے تھے، ان کی موت ہوگئی ہے اور بندوقیں ان کے خاندان میں کسی اور کے پاس ہیں۔

شدت پسندی میں کمی آنے کے بعد اب پولیس اس پر بھی غور کر رہی ہے کہ ہر جگہ وی ڈی سی کی ضرورت ہے یا نہیں؟ دلباغ سنگھ کے مطابق ہر وی ڈی سی رکن کو سو راؤنڈ گولیاں دی جاتی ہیں اور انہیں ہر گولی کا حساب دینا ہوتا ہے۔
لیکن اس بارے میں پونچھ کے ایک سابق پولیس اہلکار کا کہنا تھا، ’وي ڈی سی والے بہ آسانی پولیس کو چکمہ دے سکتے ہیں۔ گولیوں کا حساب کرتے ہوئے انہیں صرف اتنا کہنا ہوتا ہے کہ ہم نے مشتبہ حرکت دیکھی اور گولی چلا دی‘۔
جو کسی بھی طرح سے ایک اطمینان بخش جواب نہیں ہے۔






























