بھارت میں دوشیزگی کے لیے کریم پر تنازع

آخری وقت اشاعت:  منگل 28 اگست 2012 ,‭ 13:12 GMT 18:12 PST

بھارت میں ایک کمپنی نے خواتین کے لیےایک کریم متعارف کی ہے جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ اس کے استعمال سے خواتین خود کو دوبارہ کنواری محسوس کریں گی۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ کریم خواتین کو خود مختار بنانے کے لیے ہے لیکن اس پر نکتہ چینی کرنے والے اسے خواتین مخالف قرار دیتے ہیں۔

کمپنی نے کریم کے اشتہار کے لیے جو ویڈیو نشر کی ہے اس میں ایک جوڑے کو رقص کرتے ہوئے کریم کے استعمال کے بعد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دکھایا گيا ہے جس کے بعد ساس بھی کریم خریدنے کے جتن کرتی ہے۔

اس کریم کا نام 18 اگین یعنی ’پھر سے اٹھارہ برس کی‘ رکھا گیا ہے۔ اس کریم کو بھارت میں اسی ماہ لانچ کیا گيا ہے۔ مذکورہ اشتہار کریم کی مارکیٹنگ کے لیے ہے جس میں اندام نہانی کو کسنے کی طرف اشارہ ہے۔

اس کریم کو ممبئی کی ایک کمپنی الٹراٹیک نے تیار کیا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ بھارت میں اس طرح کی کریم پہلی بار لائی گئی ہے، تاہم امریکہ جیسے مغربی ممالک میں اس طرح کا پروڈکٹ پہلے ہی سے دستیاب ہے۔

اس کریم کی قیمت تقریباً دو ہزار روپے ہے۔ کمپنی کے مالک رشی بھاٹیا کا کہنا ہے کہ کریم سونے کے برادے، ایلوویرا، بادام اور انار جیسے قدرتی اجزا سے تیار کی گئی ہے اور اس پر طبی تجربات بھی کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’یہ ایک انوکھا اور انقلابی پروڈکٹ ہے جو خواتین کے اندرونی اعتماد کو پروان چڑھاتا ہے اور اس کی خودی کو بڑھاوا دیتا ہے۔ یہ پروڈکٹ خواتین کی حوصلہ افزائی کے لیے ہے۔‘

مسٹر بھاٹیا کہتے ہیں کہ ’ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ اس سے ورجینٹی یعنی کنوار پن دوباہ بحال ہوجائے گا، البتہ دوبارہ کنوارے ہونے کے جذبات بحال ہوجائیں گے۔ ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ کنوارے پن کا احساس کریں۔ یہ ایک استعارہ ہے۔ یہ ایک اٹھارہ سالہ لڑکی کے احساسات کو واپس لانے کی کوشش کرتی ہے۔‘

لیکن کمپنی کی یہی اشتہاری مہم ڈاکٹروں، خواتین کے گروپس اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی طرف سے تنقید کا باعث ہے۔

"ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ کنوارے پن کا احساس کریں۔ یہ ایک استعارہ ہے۔ یہ کریم ایک اٹھارہ سالہ لڑکی کے احساسات کو واپس لانے کی کوشش کرتا ہے۔"

ان کا کہنا ہے کہ اس پروڈکٹ سے بھارت کے اسی قدیم خیال کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جس میں شادی سے پہلے جنسی تعلقات کو بری نظر سے دیکھا جاتا ہے یا پھر قابل گناہ تصور کیا جاتا ہے۔

بھارت میں خواتین کی ایک تنظیم نیشنل فیڈریشن آف انڈین وومن کی اینی راجا کا کہنا ہے، ’اس طرح کی کریم حد درجہ کی بیوقوفی ہے اور بعض خواتین میں یہ احساس کمتری کا احساس پیدا کر سکتی ہے۔‘

محترمہ راجا کے مطابق یہ کریم خواتین کو خودمختاری دینے کے بجائے انہیں مزید پریشانی میں مبتلا کر سکتی ہے۔

جنسی امور پر بنگلور کی معرف کالم نگار ڈاکٹر مہندا وتسا کہتی ہیں خواتین شادی تک کنواری کیوں رہیں۔ یہ عورت کا حق ہے کہ وہ کسی بھی مرد سے جنسی تعلقات قائم کرے لیکن سماج یہ کہتا ہے کہ جب تک وہ شادی نہ کرے ان چیزوں سے دور رہے، اور کنوارا رہنا اعزاز کا باعث ہے اور مجھے نہیں لگتا ملک میں اس حوالے سے کوئی تبدیلی آنے والی ہے۔‘

ڈاکٹر وتسا کہتی ہے کہ بھارت میں بیشتر مرد یہی سوال کرتے ہیں کہ آیا وہ یہ کیسے معلوم کریں کہ ان کی بیوی کنواری ہے یا نہیں۔’مرد اب بھی یہ سوچتے ہیں کہ وہ کنواری لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب شہروں یا قصبوں کی بہت لڑکیاں شادی سے پہلے سیکس کرتی ہیں۔‘

"بھارت میں بیشتر مرد یہی سوال کرتے ہیں کہ آیا وہ یہ کیسے معلوم کریں کہ ان کی بیوی کنواری ہے یا نہیں۔ مرد اب بھی یہ سوچتے ہیں کہ وہ کنواری لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب شہروں یا قصبوں کی بہت لڑکیاں شادی سے پہلے سیکس کرتی ہیں۔"

ڈاکٹر وتسا

لیکن بھارت جیسے روایتی ملک میں اب بھی شادی سے پہلے جنسی تعلقات کو درست نہیں مانا جاتا اور اس سے اکثر لڑکیاں گریز کرتی ہیں۔ چھبیس برس کی ایک کنواری لڑکی کا کہنا تھا، ’ہماری پرورش ایسے کی جاتی ہے کہ شادی سے پہلے سیکس کرنا گندی بات ہے۔‘

اور اگر کسی لڑکی نے شادی سے پہلے سیکس کر بھی لیا تو اسے بہت شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔ نوجوان جالانکہ اس دور سے گزر رہے ہیں جہاں جنسی تعلقات اب عام سی بات ہے لیکن پھر سماج تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔

ایسے حالات میں خواتین کی شرمگاہ کو کسنے اور کنوارے پن کے احساس کے لیے کریم کا بازار میں آنا متنازع ہونا ہی تھا۔

اس سلسلے میں دونوں طرح کے خیالات پنپتے سماج کے عکاس ہیں۔ ایک طرف روایتی سوچ اور دوسری جانب جدید طرز فکر یعنی پرانی اور نئی قدروں کا ٹکراؤ ہے۔

لیکن کمپنی کے مالک مسٹر بھاٹیا کے نزدیک یہ تنازع غیر ضروری ہے۔ ’مردوں کے لیے بازار بہت سے پروڈکٹ ہیں وہ اپنی جنسی خواہشات اور تلذذ بڑھانے کے لیے کچھ بھی خرید سکتے ہیں اور یہ تو صرف خواتین کی جنسیات کے فروغ کے لیے ایک پروڈکٹ ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>