’ٹوئٹر پر پابندی کی باتیں بے بنیاد ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 23 اگست 2012 ,‭ 09:15 GMT 14:15 PST
ٹوئٹر

آسام میں تشدد کے پس منظر میں بعض ویب سائٹس پر پابندی عائد کی گئی ہے

بھارتی حکومت کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملک میں مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر پابندی کی بات صرف ایک افواہ ہے۔

انکا کہنا ہے کہ حکومت نے ٹوئٹر کو یہ نہیں کہا ہے کہ اگر انہوں نے حکومت کی بات نہیں مانی تو ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق ’ویب سائٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ بعض اشتعال انگیز اور متنازع مواد کو ہٹائیں۔ یہ ایک تکنیکی مسئلہ ہے اور معاملے کو حل کرنے میں تھوڑ وقت لگ سکتا ہے۔‘

حکومت کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پابندی کی بات کو بڑھا چڑھا کرپیش کیا جا رہا ہے اور اس بارے میں حکومت لگاتار میٹنگز کررہی ہے۔

دوسری جانب بنگلور میں واقع غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار انٹرنیٹ سوسائٹی نے دعوی کیا ہے کہ اس کے پاس وہ سرکاری فہرست موجود ہے جس میں ان تین سو نو ویب سائٹس اور ویب پیجز کے نام ہیں جن پر حکومت نے پابندی عائد کی ہے۔

سینٹر فار انٹرنیٹ سوسائٹی کے ممبر پریش پرکاش کا کہنا ہے کہ حکومت نے جن ویب سائٹس کو بلاک کیا ہے اس کے ناموں کو عام کیوں نہیں کیا جارہا ہے۔‘

اس فہرست کے مطابق جن چار ویب سائٹس پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے ان میں ’ہندوجاگرتی‘، ’جافریا نیوز‘، ’یونائٹیڈ ڈاٹ او آرجی‘ اور ’اتجہ سائیبر ڈاٹ نیٹ‘ شامل ہیں۔اس کے علاوہ بعض پاکستانی ویب سائٹس کو بھی بلاک کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق دو صحافیوں کنچن گپتا اور شوارور کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بلاک کردیا گیا ہے حالانکہ شو ارور نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ابھی بھی ٹوئٹ کر پار ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت کی شمالی مشرقی ریاست میں جاری نسلی تشدد کے پس منظر میں انٹرنیٹ اور موبائل پر ایس ایم ایس کے ذریعے ایسی افواہیں پھیلی تھیں کہ آسام کے فسادات کا انتقام لینے کے لیے شمال مشرق سے تعلق رکھنے والے افراد کو رمضان کے بعد نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

ان افواہوں کی وجہ سے بنگلور، حیدرآباد، چنئی اور پونے جیسے بھارت کے بڑے شہروں سے لوگوں نے شمال مشرق واپس لوٹنا شروع کردیا تھا۔

جمعہ کو بھارت کے داخلہ سیکرٹری آر کے سنگھ نے یہ الزام لگایا تھا کہ جن افواہوں اور دھمکی آمیز ایس ایم ایس پیغامات کی وجہ سے شمال مشرقی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بڑی تعداد میں اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے، ان میں سے زیادہ تر کا سلسلہ پاکستان سے شروع ہوا تھا۔

پاکستان نے ان الزمات کو مسترد کرتے ہوئے بھارت سے ثبوت مانگا تھا۔

بدھ کو بھارت میں انگریزی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ نے دعوی کیا تھا کہ آسام کے فسادات کے پس منظر میں اشتعال انگیز مواد شائع کرنے کے لیے بھارتی حکومت نے جن ویب سائٹس کو بلاک کیا ہے ان کی بڑی اکثریت میں آسام کے فسادات کا ذکر نہیں ہے۔

اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق ان ویب سائٹس کے جائزے سے لگتا ہے کہ افواہوں کے سلسلے بھارت نے پاکستان کے انٹرنیٹ صارفین پر جو الزامات عائد کیے ہیں انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

اخبار کے مطابق ’اب تک صرف ایک دو ویب سائٹس پر ہی آسام کے فسادات کی اصلی یا فرضی تصاویر یا ویڈیو ملی ہیں اور پچاس سے کم پیجز پر آسام کے فسادات کا ذکر ہے یا نفرت پھیلانے والے پیغام شائع کیے گئے ہیں اور یہ سبھی بھارت میں موجود انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے شائع کیے گئے ہیں۔‘

واضح رہے کہ بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں کئی ہفتوں سے بوڈو قبائلیوں اور مسلمانوں کے درمیان تشدد جاری ہے جس میں اب تک پچہتر سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ملک کے کئی شہروں میں یہ افواہ پھیلائی گئی تھی کہ عید کے بعد شمال مشرق سے تعلق رکھنے والے لوگو ں کے خلاف انتقامی کارروائی کی جا سکتی ہے جس کے بعد ان لوگوں نے بڑی تعداد میں اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کردیا تھا۔

صرف بنگلور سے ہی تیس ہزار سے زیادہ لوگ افرا تفری میں اپنی نوکریاں اور تعلیم بیچ میں ہی چھوڑ کر واپس چلے گئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>