
فسادات کے بعد سے سونیا گاندھی کا آسام کا یہ دوسرا دورہ ہے
بھارت میں حکمراں جماعت کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے شمال مشرقی ریاست آسام میں فرقہ وارانہ کشیدگی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے۔
آسام میں بوڈو قبائلیوں اور مسلم اقلیت برادری کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات کے سبب لاکھوں لوگوں نے گھر بار چھوڑ کر عارضی کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے۔
فسادات میں ستر سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور سینکڑوں زخمی اب بھی ہسپتالوں میں زیراعلاج ہیں۔
سکیورٹی حکام کے مطابق حالات قابو میں تو ہیں لیکن صورتحال اب بھی کشیدہ ہیں۔
پیر کو سونیا گاندھی نے وزیر داخلہ شوشیل کمار شندے اور وزیر داخلہ ترون گگوئی کے ساتھ ان کیپموں کا دورہ کیا جہاں کئی لاکھ لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے۔
سونیا گاندھی نے کہا’ تمام پناہ گزیں اپنے گھر واپس جانا چاہتے ہیں لیکن اس میں ابھی تھوڑی تاخیر ہوگي کیونکہ حالات تھوڑے پرسکون ہونے میں وقت لگےگا۔ ایک بار جب احساسات تھوڑے معمول پر آ جائیں گے تو وزیر اعلیٰ اور دیگر حکام ان کی واپسی کو یقینی بنائیں گے۔‘
سونیا گاندھی کے مطابق پناہ گزینوں نے انہیں بتایا ہے کہ کیمپوں میں انہیں مشکلات کا سامنا نہیں ہے اور انہیں ضروری اشیاء مہیا کی جا رہی ہیں۔
سونیا گاندھی اور وزیر داخلہ ریاست آسام کے کوکھرا جھار اور چٹانگ اضلاع کا دورہ کیا ہے جو فسادات سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
"تمام پناہ گزیں اپنے گھر واپس جانا چاہتے ہیں لیکن اس میں ابھی تھوڑی تاخیر ہوگي کیونکہ حالات تھوڑے پرسکون ہونے میں وقت لگےگا۔ ایک بار جب احساسات تھوڑے نارمل ہوجائیں گے تو وزیر اعلی اور دیگر حکام ان کی واپسی کو یقینی بنائیں گے۔"
سونیا گاندھی
اس دوران مختلف برادریوں کے نمائندوں نے بھی ان سے ملاقات کی اور انہیں مسائل سے متعلق آگاہ کیا۔
سونیا گاندھی کا آسام کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ اس سے قبل سونیا گاندھی نے فسادات شروع ہونے کے فوراً بعد وزیراعظم منموہن سنگھ کے ساتھ دورہ کیا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ تشدد کے واقعات کوکراجھار میں اقلیتی طلباء تنظیموں کے دو رہنماؤں پر حملے کے بعد شروع ہوئے تھے۔ اس حملےمیں آل بوڈو لینڈ مائنارٹی سٹوڈنٹس یونین کے مجیب الاسلام اور آل آسام مائنارٹی سٹوڈنٹس یونین کے عبدالصدیق شیخ شدید زخمی ہوگئے تھے۔
اس کے بعد مبینہ طور پر انتقامی کارروائی میں بوڈو لبریشن ٹائیگرز کے چار سابق کارکنوں کو ہلاک کیا گیا اور تب سے تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق بوڈو قبائل نے جوابی کارروائی بڑی منصوبہ بندی سے شروع کی تھی یہی وجہ ہے کہ سکیورٹی فورسز کی ہر ممکن حکمت علمی کے باوجود تشدد کو روکا نہیں جا سکا اور فسادات کئی روز تک جاری رہے۔






























