
بھارت کی شمالی مشرقی ریاست آسام میں کئی ہفتوں سے بوڈو قبائلیوں اور مسلمانوں کی درمیان تشدد جاری ہے
بھارت میں انگریزی کے ایک موقر روزنامے نے دعوی کیا ہے کہ آسام کے فسادات کے پس منظر میں اشتعال انگیز مواد شائع کرنے کے لیے بھارتی حکومت نے جن ویب سائٹس کو بلاک کیا ہے ان کی بڑی اکثریت میں آسام کے فسادات کا ذکر نہیں ہے۔
اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق ان ویب سائٹس کے جائزے سے لگتا ہے کہ افواہوں کے سلسلے بھارت نے پاکستان کے انٹرنیٹ صارفین پر جو الزامات عائد کیے ہیں انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔
جمعہ کو بھارت کے داخلہ سیکریٹری آر کے سنگھ نے یہ الزام لگایا تھا کہ جن افواہوں اور دھمکی آمیز ایس ایم ایس پیغامات کی وجہ سے شمال مشرقی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بڑی تعداد میں اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے، ان میں سے زیادہ تر کا سلسلہ پاکستان سے شروع ہوا تھا۔
لیکن پاکستان نے ان الزمات کو مسترد کرتے ہوئے بھارت سے ثبوت مانگا تھا۔
بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں کئی ہفتوں سے بوڈو قبائلیوں اور مسلمانوں کے درمیان تشدد جاری ہے جس میں اب تک پچہتر سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ملک کے کئی شہروں میں یہ افواہ پھیلائی گئی تھی کہ عید کے بعد شمال مشرق سے تعلق رکھنے والے لوگو ں کے خلاف انتقامی کارروائی کی جا سکتی ہے جس کے بعد ان لوگوں نے بڑی تعداد میں اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کردیا تھا۔
صرف بنگلور سے ہی تیس ہزار سے زیادہ لوگ افرا تفری میں اپنی نوکریاں اور تعلیم بیچ میں ہی چھوڑ کر واپس چلے گئے تھے۔
انڈین ایکسپریس نے ’سرکاری ذرائع‘ کے حوالے سے کہا ہے کہ بھارت نے پیر تک دو سو پینتالیس ویب سائٹس بلاک کی تھیں اور ان میں سے صرف بیس فیصد میں شمالی مشرقی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں یا آسام کے فسادات کا ذکر تھا۔
اخبار کے مطابق ’اب تک صرف ایک دو ویب سائٹس پر ہی آسام کے فسادات کی اصلی یا فرضی تصاویر یا ویڈیو ملی ہیں اور پچاس سے کم پیجز پر آسام کے فسادات کا ذکر ہے یا نفرت پھیلانے والے پیغام شائع کیے گئے ہیں اور یہ سبھی بھارت میں موجود انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے شائع کیے گئے ہیں۔‘
حکومت کی جانب سے اب تک تین سو دس ویب سائٹس بلاک کی جا چکی ہیں۔
اخبار کے ذرائع کے مطابق ’بلاک کیے جانے والے ویب پیجز پر جو اشتعال انگیز مواد شائع کیا گیا ہے اس میں سے زیادہ تر پاکستانی صارفین نے اپ لوڈ کیا ہے لیکن اس مواد کا تعلق آسام کے فسادات سے نہیں ہے بلکہ برما میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ ذیادتیوں کے واقعات سے ہے۔'
مہاراشٹر اور کرناٹک میں ان پیغامات کے سلسلے میں کئی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔
پاکستان کی جانب سے بھارتی الزام کی تردید کے بعد مسٹر آر کے سنگھ نے کہا تھا کہ بھارت ہمسایہ ملک کو ثبوت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
بھارتی حکومت نے سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹس ٹوئٹر اور فیس بک سےبھی قابل اعتراض مواد ہٹانے کے لیے کارروائی کی ہے۔






























