
بنگلور سے وہاٹی جانے والی ایک خصوصی ٹرین پر جلتائی گیری ضلعے میں نامعلوم افراد نے حملہ کیا اور ٹرین میں سوار چودہ لوگوں کے گروپ میں سے چار افراد کو قتل اور دیگر دس افراد کو بری طرح زخمی کر کے ٹرین سے پھنک دیا ہے
پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ انہوں نے ہندوستان کے وزیر داخلہ سے بھارت میں افواہوں کی بابت پاکستان کے کردار کے بارے میں ثبوت مانگے ہیں۔
یہ بات رحمان ملک نے ہفتے کو ایک پریس کانفرنس میں کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیلفونک رابطے میں بھارتی وزیر داخلہ چدامبرم نے بتایا کہ ان کے پاسں ایسی معلومات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ افواہیں پاکستان سے پھیلائیں گئی۔
یاد رہے کہ سنیچر کو بھارت نے الزام عائد کیا تھا جن افواہوں سے گھبرا کر شمال مشرقی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں ملک کے مختلف حصوں سے اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں اس کا سلسلہ پاکستان سے شروع ہوا تھا۔
کلِک بھارت سے ثبوت مانگے ہیں: رحمان ملک
دوسری جانب بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ بنگلور سے وہاٹی جانے والی ایک خصوصی ٹرین پر جلتائی گیری ضلعے میں نامعلوم افراد نے حملہ کیا اور ٹرین میں سوار چودہ لوگوں کے گروپ میں سے چار افراد کو قتل اور دیگر دس افراد کو بری طرح زخمی کر کے ٹرین سے پھنک دیا ہے۔
رحمان ملک کا کہنا تھا کہ جب سرکاری طور پر ہندوستان کی طرف سے معلومات دے دی جائیں گی تو وہ اس معاملے کی تحقیقات کر یں گے۔
رحمان ملک نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر جہاں کہیں سے بھی جس موبائل سے پیغام گیا ہو معلوم کر سکتے ہیں۔
رحمان ملک نے کہا کہ پاکستان ہندوستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہتا اور اگر ہندوستان افواہوں کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم کرے تو اس سے تعاون کریں گے اور اس کی تحقیقات ہوں گی۔
ہندوستان میں ان افواہوں کا سلسلہ اس ہفتے کے اوائل میں شروع ہوا تھا اور یہ انٹرنیٹ، ایس ایم ایس اور ایم ایم ایس کے ذریعہ تیزی سے پھیلتا چلا گیا۔
ان پیغامات میں کہا گیا تھا کہ آسام کے فسادات کا انتقام لینے کے لیے شمال مشرق سے تعلق رکھنے والے افراد کو رمضان کے بعد نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
زخمیوں کے مطابق
عینی شاہدین اور زخمی ہونے والوں کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے مسلمان تھے۔ زخمی ہونے والوں کو اتر بنگال کے میڈیکل کالج لے جایا گیا ہے۔
ان افواہوں کی وجہ سے بنگلور، حیدرآباد، چنئی اور پونے جیسے بھارت کے بڑے شہروں سے لوگوں نے شمال مشرق واپس لوٹنا شروع کردیا ہے۔
صرف بنگلور سے تقریباً تیس ہزار افراد آٹھ خصوصی ٹرینوں میں سوار ہوکر آسام اور دیگر شمال مشرقی ریاستوں کو واپس چلے گئے ہیں۔
معاملہ اتنی سنگین نوعیت اختیار کرچکا ہے کہ جمعہ کو تمام سیاسی جماعتوں نے متحد ہوکر پارلیمان کے پلیٹ فارم سے یہ پیغام دیا کہ شمال مشرق کے لوگوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا اور انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
دوسرا جانب بنگلور سے کلِک صحافی امیتابھ بھٹ شالی نے بی بی سی کو بتایا کہ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ بنگلور سے وہاٹی جانے والی ایک خصوصی ٹرین پر جلتائی گیری ضلعے میں نامعلوم افراد نے حملہ کیا اور ٹرین میں سوار چودہ لوگوں کے گروپ میں سے چار افراد کو قتل اور دیگر دس افراد کو بری طرح زخمی کر کے ٹرین سے پھنک دیا ہے۔
بھارتی صحافی کے مطابق ہلاک ہونے والوں کو جلتائی گیری ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
عینی شاہدین اور زخمی ہونے والوں کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے مسلمان تھے۔ زخمی ہونے والوں کو اتر بنگال کے میڈیکل کالج لے جایا گیا ہے۔






























