سچن کو ایم پی بنانے پر حکومت کو نوٹس

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 23 اگست 2012 ,‭ 06:47 GMT 11:47 PST

سچن حال ہی میں بھارتی پارلیمان کے رکن بنے ہیں

بھارت کی ایک عدالت نے مفاد عامہ کی ایک درخواست پر معروف کرکٹر سچن تندولکر کو پارلیمان کے لیے نامزد کرنے کے لیے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے اور اسے جواب دینے کے لیے دو ہفتے کی مہلت دی ہے۔

دلی کے ایک سابق رکن اسمبلی رام گوپال سنگھ سیسودیا نے راجیہ سبھا کے لیے سچن کی نامزدگی کو چیلنج کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آئین کی دفعہ 80 کے تحت جن صلاحیتوں کے تحت کسی شخص کو ایوان بالا کے لیے نامزد کیا جا سکتا ہے سچن ان میں سے کسی بھی ذمرے میں نہیں آتے ہیں۔

دلی ہائی کورٹ میں داخل کی گئی اپنی درخواست میں رام گوپال سنگھ نے سچن کی نامزدگی کو چیلنج کرتے ہوئےکہا ہے کہ آئین کی رو سے حکومت صرف آرٹس، سائنس، لٹریچر اور سوشل سائنس کے چار شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے اشخاص کو پارلیمان کے لیے نامزد کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق ’کسی کھلاڑی کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کرنا غیر آئینی ہے۔‘

رام گوپال سنگھ نے گزشتہ مئی میں ایک درخواست سپریم کورٹ میں داخل کی تھی اور ‏عدالت عظمی سے درخواست کی تھی کہ وہ معروف کرکٹر کی نامزدگی کو کالعدم قرار دے تاہم ‏عدالت نے ان کی درخواست قبول نہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سلسلے میں ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔اس ہدایت کے بعد انہوں نے اپنی درخواست ہائی کورٹ میں داخل کی۔

"سیسودیا نے سچن کی نامزدگی کو چیلنج کرتے ہوئےکہا ہے کہ آئین کی رو سے حکومت صرف آرٹس، سائنس، لٹریچر اور سوشل سائنس کے چار شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے اشخاص کو پارلیمان کے لیے نامزد کر سکتی ہے۔"

رام گوپال سنگھ

ہائی کورٹ نے ان کی عرضی قبول کرتے ہوئے حکومت سے یہ پوچھا تھا کہ راجیہ سبھا کےلیے ایک سپورٹس پرسن کی نامزدگی کے لیے کس طرح کھیل کے شعبے کو نامزدگی کے ذمرے میں شامل کیا گیا۔

حکومت نے ابھی تک اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا ہے لیکن عدالت کی نوٹس کے بعد حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سولیسٹر جنرل نے دو رکنی بنچ کو بتایا کہ حکومت نے الہ آباد ہائی کورٹ میں اسی طرح کی ایک درخواست کا جواب داخل کیا ہے اور وہ اسی جواب کی نقل ہائی کورٹ میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔

عدالت نے انہیں حکومت کا جواب داخل کرنے کے لیے پانچ ستمبر تک کا وقت دیا ہے۔

معروف کرکٹر سچن تندولکر کو حکومت نے مئی میں راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا تھا۔ وہ نہ صرف راجیہ سبھا کے لیے نامزد ہونے والے پہلے کھلاڑی ہیں بلکہ ایک ایسے کھلاڑی ہیں جن کے کھیل کا کرئیر ابھی جاری ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>