سچن تندولکر کی سیاسی اننگز

سچن تندولکر
،تصویر کا کیپشنسچن کی اب سیاسی اننگ کی باتیں ہورہی ہیں

بھارت کی صدر پرتیبھا پاٹل نے مشہور کرکٹر سچن تندولکر کو ملک کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا کا رکن نامزد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس نامزدگی کے لیے وزارت داخلہ کو ایک خط لکھا جسے منظوری کے لیے بھارتی صدر کے دفتر بھیجا گیا جنہوں نے باقاعدہ طور پر اس کی منظوری دی۔

انتالیس سالہ تندولکر کھیل کی دنیا سے پہلی شخصیت ہیں جو راجیہ سبھا کے رکن بنیں گے۔

بھارتی قانون کے مطابق پارلیمان کی چند نشستیں ملک کی ان سرکردہ شخصیات کے لیے مخصوص ہیں جنہوں نے ملک کی خدمت کے لیے کارہائے نمایاں انجام دیے ہوں۔

اس فہرست میں، ادیب، فنکار، سماجی کارکنان اور کھلاڑیوں جیسی شخصیات کے نام شامل ہوتے ہیں جنہیں صدر نامزد کرتا ہے۔ سچن کے علاوہ حکومت نے معروف اداکارہ ریکھا اور سماجی کارکن انو آگھا کی نامزدگی کی سفارشات بھی کی تھیں جو صدر نے منظور کر لیں۔

سچن تندولکر نے جمعرات کو اپنی اہلیہ کے ہمراہ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی سے بھی ملاقات کی۔بی سی سی آئی کے افسر اور آئی پی ایل کے صدر راجیو شکلا بھی ملاقات کے دوران موجود تھے۔

مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس خبر پر اپنے رد عمل میں خوشی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ملک کی کے لیے ان کی خدمات ایسی ہیں کہ وہ اس اعزاز کے مستحق ہیں۔

انتالیس سالہ سچن کی نامزدگی پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر روی شنکر پرساد نے کہا ہے کہ اگر انہیں نامزد کیا گیا ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کو وقت دیں کیونکہ یہ ایک سنجیدہ کام ہے۔