کھلاڑی ہوں سیاستدان نہیں: سچن

سچن تندلکر

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسچن تندلکر کو حال ہی میں راجیہ سبھا کا ممبر نامزد کیا گیا ہے

بھارتی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کے ممبر بننے کے بعد پہلی بار میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی کرکٹ کھلاڑی سچن تندولکر نے کہا ہے بھارتی پارلمیان کے لیے نامزد کیے جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ سیاست کے لیے کرکٹ چھوڑ دیں گے۔

مہاراشٹر کے شہر پونے میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا میں’ کھلاڑی ہوں اور کھلاڑی ہی رہوں گا۔‘

سچن تیندولکر کو گزشتہ ماہ پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا گیا تھا اور تب سے ہی یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ کرکٹ کے میدان پر اپنی بے انتہا مصروفیت کے باوجود کیا وہ پارلیمان کے لیے وقت نکال سکیں گے اور کیا واقعی انہیں اس اعزاز سے نوازا جانا چاہیے تھا؟

سچن سو سینچریاں بنانے والے دنیا کے واحد کھلاڑی ہیں اور کانگریس کی قیادت والی وفاقی حکومت نے کرکٹ کے میدان پر ان کے کارہائے نمایاں کے اعتراف میں صدر جمہوریہ پرتیبھا پاٹل سے انہیں راجیہ سبھا کے لیے نامزد کرنے کی سفارش کی تھی۔

صدر کو مختلف شعبوں میں شاندار کارنامے انجام دینے والی بارہ ممتاز شخصیات کو راجیہ سبھا کا رکن نامزد کرنےکا اختیار حاصل ہے۔

سچن کے ہمراہ عہد رفتہ کی فلم اداکارہ ریکھا کو بھی راجیہ سبھا کا رکن بنایا گیا تھا۔

ماضی میں شبانہ اعظمی اور لتا منگیشکر جیسے فنکاروں کو بھی اس اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔

لیکن سچن تندولکر کرکٹ کے میدان سے راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیے جانے والے پہلے کھلاڑی ہیں اور ابھی تینوں فارمیٹ کی کرکٹ میں حصہ لیتے ہیں جس کی وجہ سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ان کے لیے کرکٹ اور اپنی نئی ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔

لیکن سچن نے پہلی مرتبہ راجیہ سبھا کی رکنیت پر باقاعدہ رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ’ اس سے پہلے بڑی بڑی شخصیات کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ساڑھے بائیس سال کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے صدر جمہوریہ نے مجھے نامزد کیا ہے، یہ میرے لیے ایک اعزاز ہے لیکن میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں کھلاڑی ہوں سیاست دان نہیں اور ہمیشہ کھلاڑی رہوں گا۔‘

حکومت کے فیصلے کی یہ کہہ کر بھی تنقید کی گئی ہے کہ سچن کی دنیا کرکٹ کے ارد گرد ہی گھومتی ہے اور وہ رکن پارلیمان کی حیثیت سے کوئی شراکت نہیں کر پائیں گے۔

لیکن سچن نے کہا کہ ’مجھے اپنی نئی ذمہ داریوں کا احساس ہے، لیکن مجھے یہ اعزاز کرکٹ کی وجہ سے ملا ہے، مجھے نہیں لگتا کہ میں کرکٹ کو الوادع کہہ کر سیدھا سیاست میں جاؤں گا، کرکٹ میری زندگی ہے اور رہے گی۔مجھے دو سال پہلے بھارتی فضائیہ نے بھی اعزازی گروپ کیپٹن بنایا تھا لیکن آج تک مجھے ہوائی جہاز اڑانا نہیں آیا۔ لیکن کھلاڑیوں کے لیے میں جو کچھ بھی کرسکتا ہوں وہ میں ضرور کرنا چاہوں گے۔‘