آسام اور برما کے مسلمان اتنے بے بس کیوں؟

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 18 اگست 2012 ,‭ 07:59 GMT 12:59 PST

بھارت کے قومی اقلیتی کمیشن کے مطابق منظّم حملوں کے بعد مسلمانوں کے مکانوں کو لوٹا گیا اور اس کے بعدگاؤں کو پوری طرح خاکستر کر دیا۔

بھارت میں جمعۃ الوداع کی نماز کے بعد مسلمانوں نے اتر پردیش کے کئی شہروں میں آسام اور برما میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج کیا۔

احتجاج کے دوران کئی شہروں میں مظاہرین تشدد پر اتر آئے۔ مظاہرین نے میڈیا کے لوگوں پر حملے کیے۔ کئی جگہ گاڑیوں اور دکانوں کو آگ لگائي اور بعض مقامات پر لوٹ مار کے واقعات پیش آئے۔

کلِک نسلی تشدد میں مسلم نشانہ بنتے ر ہے ہیں

ایک ہفتے پہلے ممبئی میں بھی اسی طرح کے ایک بڑے مظاہرے کے بعد مسلمانوں کا ہجوم جو تشدد پر اترا تو پولیس پر حملے اور خاتون کانسٹیبلز کے ‎ساتھ جنسی بدسلوکی سے لے کر آزادی کے شہیدوں کی یادگار تک کی بے حرمتی کر ڈالی۔ آئے تھے آسام کی صورتحال اجاگر کرنے اور خود ہی خبر بن گئے۔

آسام میں گزشتہ ہفتوں کے دوران بہت بڑے پیمانے پر قتل وغارت گری ہوئی ہے۔ کئی غیر جانبدار مبصرین تو کہتے ہیں کہ آزادی کے بعد غالباً یہ سب سے بڑا فساد ہے جس میں تقریبـاً چار لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔

فسادات کے دو ہفتے گزرنے کے بعد بھی اس وقت کم ازکم تین لاکھ افراد دگرگوں حالت میں ریلیف کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ان میں سے غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے۔

یہ کبھی اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے؟ یہ کوئی نہیں جانتا۔ قومی اقلیتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’منظّم حملوں کے بعد مسلمانوں کے مکانوں کو لوٹا گیا اور اس کے بعد ان کے گاؤں کو پوری طرح خاکستر کر دیا تاکہ یہ دوبارہ کبھی اپنے گھروں کو نہ لوٹ سکیں۔‘

غیر قانونی تاریکین وطن کا سوال خطے کا ایک سنگین مسئلہ ہے لیکن ہر جماعت اسے حل کرنے کے بجائے اس سوال کو اپنے نظریاتی اور سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرتی آئی ہے اور اس میں مذہبی نفرت کا پہلو بھی شامل رہا ہے۔

بھارت کے میڈیا نے آسام کے بھیانک مظالم کی خبریں شائع نہیں کی ہیں۔ ان ریلیف کیمپوں کی تصویرین شاید ہی کہیں دکھ جائیں ۔بھارت کی پارلمینٹ میں آسام کے تشدد پر جب بحث ہوئی تو حزب اختلاف کی ساری دلیل اس نکتے پر مرکوز تھی کہ اس تشدد کے پیچھے بنگلادیشی ’گھس پیٹھیون‘ کا ہاتھ ہے اور وہ بھارت کے اس حصے پر قبضہ کرنے کے لیے ایک سازش کے تحت کئی کروڑ کی تعداد میں آسام اور پڑوسی ریاستوں میں آکرآباد ہو گئے ہیں۔

آسام میں کشیدگی کے باعث ہزاروں لوگوں کو مجبوراً نقل مکانی کرنا پڑی۔

اگر بی جے پی اور دیگر دائیں بازو کی ہندو تنطیموں کے پراپیگینڈے پر نظر ڈالیں تو ان کے مطابق ’بنگلہ دیش کی ایک تہائی آبادی ان ریاستوں میں غیر قانونی طور پر داخل ہو چکی ہے اور یہ کروڑوں غیر قانونی بنگلہ دیشی اقتصادی تاریکین ہی نہیں انتہا پسندی کے بھی حامل ہیں۔‘

فسادات کے تجزیہ کرتے ہوئے بھارت کے ایک موجودہ الیکشن کمشنر نے ایک سرکردہ اخبار میں لکھا ہے کہ ’آسام کے ستائیس اضلاع میں سے گیارہ اضلاع کی صورتحال کافی دھماکہ خیز ہے کیونکہ وہاں مسلمانوں کی آبادی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ان کی اکثریت ہو سکتی ہے۔‘

آسام کے کئی غیر جانبدارمبصرین اور تجزیہ کارون نے ان کی اس دلیل کو ’متعصبانہ‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اوّل تو یہ کہ خود مردم شماری کے اعداد وشمار کے مطابق مسلمانوں کی اکثریت ہونے کا دعویٰ غلط ہے اور دوسرے یہ کہ کسی ضلع میں مسلمانوں کا محض اکثریت میں آجانا کِس طرح دھماکہ خیز ہو سکتا ہے۔

آسام میں مسلمانوں پر جو گزری اسے میڈیا والوں نے تو نہیں دکھایا لیکن ایم ایم ایس ،فیس بک اور یو ٹیوپ جیسی سوشل ویب سائٹس پران دنوں برما اور آسام کے مظالم کی جھوٹی سچی تصویروں اور ویڈیو کا ایک سیلاب سا آیا ہوا ہے۔

غلط تصاویر

انتہا پسند گروپ اور فتنہ و فساد پیدا کرنے والی تنظیمیں اور افراد ہیٹی کے زلزلے اور لاطینی امریکہ کی فیکٹریوں کی حادثاتی آگ میں ہلاک ہونے والوں سے لے کر دو دہائی قبل افریقی ملک روانڈا کے قتل عام تک کی تصویروں کو برما اور آسام کے مسمانوں کی ہلاکت کے طور پر پیش کررہے ہیں۔

انتہا پسند گروپ اور فتنہ وفساد پیدا کرنے والی تنظیمیں اور افراد ہیٹی کے زلزلے اور لاطینی امریکہ کی فیکٹریوں کی حادثاتی آگ میں ہلاک ہونے والوں سے لے کر دو دہائی قبل افریقی ملک روانڈا کے قتل عام تک کی تصویروں کو برما اور آسام کے مسمانوں کی ہلاکت کے طور پر پیش کررہے ہیں۔

اور جب مسلمان ان جھوٹی سچی تصویروں کو دیکھتے ہیں تو وہ بے بسی کے عالم میں کبھی ممبئی تو کبھی لکھنؤ، کانپور تو کبھی الٰہ آباد کی سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور جذبات میں تشدد پر اترتے ہیں۔ انتہا پسندی کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اُن افراد کو نشانہ بناتے ہیں جن کا ان واقعات سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔

جمہوری معاشروں میں حق کی جنگ صرف جمہوری اور پر امن طریقوں سے ہی جیتی جا سکتی ہے۔مسلمان تعلیم میں ، صحت ، تجارت حتٰی کہ زندگی کے ہر پہلو میں بھارتی معاشرے میں سب سے نچلی سطح پر ہیں۔ اسی لیے وہ ظلم اور فتنے دونوں کا شکار ہییں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>