
بھارتی فوج نے دراندازی اور فوج پر حملے کا الزام عائد کیا ہے
بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کی پندرہویں کور نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی زیرانتظام کشمیر سے مسلح دراندازوں نے بھارتی علاقہ میں گھُس کر فائرنگ کی جس میں ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوگیا ہے۔
سری نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کو کشمیر میں بھارتی فوج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ 'بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب گُریز سیکٹر میں مسلح درانداز کنٹرول لائن کے اندر پچاس میٹر فاصلے تک آگئے۔ اس کے بعد تصادم ہوا جس میں ہمارا ایک جوان مارا گیا، لیکن جوابی کاروائی میں درانداز واپس چلے گئے۔ ترجمان کے مطابق جائے واردات سے ایک پستول اور کچھ گولی بارود برآمد ہوا ہے۔
دراندازی اور فوج پر حملے کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت کیاگیا ہے جب مقامی حکومت اور فوجی حکام کے درمیان فوجی اختیارات کے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کو ہٹائے جانے پر اختلاف پایا جاتا ہے۔
واضح رہے سری نگر کے شمال مشرق میں واقع گریز کا پہاڑی خطہ کنٹرول لائن کے بہت قریب ہے، اور یہاں بھارت کا متنازعہ پن بجلی پروجیکٹ ’کشن گنگا‘ بھی واقع ہے۔
اس پروجیکٹ پر پاکستان نے بارہا اعتراض کیا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان یہ تنازعہ عالمی ادارہ آئی سی اے میں پہنچا ،جہاں پچھلے سال بھارت سے کہا گیا کہ وہ اس پروجیکٹ پر مستقل اور پختہ تعمیرات سے اجتناب کرے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت اگر اس ڈیم کے ذریعہ بجلی پیدا کرے گا تو پاکستانی پنجاب اور دیگر علاقوں میں پانی کی قلّت پیدا ہوجائے گی۔
پچھلے سال فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ بائیس سال میں دراندازی کی سب سے بڑی کوشش گریز سیکٹر میں ہی ہوئی جس کے دوران طویل تصادم میں بارہ مسلح عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔






























