کشمیر: دوران حراست قتل کے خلاف ہڑتال

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے شمال مشرقی ضلع بانڈی پورہ میں فوجی حراست میں شہری کے قتل کے خلاف لوگ تین روز سے سراپا احتجاج ہیں۔ اس سلسلے میں سنیچر کو تمام اضلاع میں ہڑتال کی گئی۔
کشیدگی کا یہ ماحول ایک ایسےوقت پیدا ہوا جب کشمیر میں لاکھوں سیاحوں کی آمد اور بظاہر پرسکون حالات کو امن کی واپسی قرار دیا جارہا ہے۔
اس واقعہ کی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ فوج کے لیے کام کرنے والے ایک کشمیری نے اپنے ہی دوست کو عسکریت پسند بتا کر فوج کے ہاتھوں قتل کروا دیا۔
چوبیس جولائی کی شب بانڈی پورہ کے آلوسہ گاؤں میں ہلال احمد نامی نوجوان فوج کے ہاتھوں مارا گیا جس کے خلاف پورے ضلع میں کہرام مچ گیا۔
پولیس نے فوج کی ستائیس راشٹریہ رائفلز کی یونٹ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔
فوجی حکام نے کہا ہے کہ ہلال عسکریت پسند تھا اور اس کی تحویل سے اسلحہ کی برآمدگی کا دعویٰ بھی کیا گیا تاہم بھارتی وزیرِ دفاع اے کے انتونی نے اس دعویٰ کو ناکافی قرار دے کر معاملہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
بانڈی پورہ کے پولیس سربراہ بشیر احمد خان نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کو بتایا کہ اس واقعہ کے سلسلے میں نذیر احمد نامی ایک مقامی شہری کو گرفتار کیا گیا ہے۔ نذیر احمد کے بارے میں بانڈی پورہ کے لوگوں نے بتایا کہ وہ فوج کے لیے مخبری کرتا تھا اور ہلال کے ساتھ اس کے ساتھ تعلقات تھے۔
اس واقعہ کی تفتیش کرنے والے ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابھی تک اس کیس سے متعلق دو پہلو سامنے آ ئے ہیں۔ ایک یہ کہ نذیر نے ذاتی عناد کی وجہ سے ہلال کو قتل کروایا اور دوسرا پہلو یہ کہ دراندازی کے خلاف نتائج ظاہر کرنے کے لیے فوج پر دباؤ بڑھ رہا تھا اوراس سلسلے میں نذیر نے ’لمبے بالوں والے باریش‘ دوست کا انتخاب کرکے اپنی ’خدمات‘ پیش کیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس حکام ان دونوں پہلوں کی تحقیقات کر رہی ہے تاہم اس کیس کی تفتیش سے وابستہ پولیس افسر نثار میر نے بتایا ’فی الوقت تو تحقیقات کا عمل متاثر ہورہا ہے۔ ہم امن و قانون کی صورت حال کو قابو کرنے میں مصروف ہیں۔‘
معلوم ہوا ہے کہ ستائیس راشٹریہ رائفلز کو گزشتہ جون میں بانڈی پورہ میں تعینات کیا گیا۔ یہ یونٹ اس سے قبل جموں کے سرنکوٹ قصبہ میں تھی، جہاں اس کے خلاف انسانی حقوق کی پامالیوں اور حراست کے دوران اموات کے کئی مقدمات درج کیے گئے۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ چوبیس جولائی کی شب ہلال احمد کی ہلاکت کے فوراً بعد سینتالیس سالہ نذیر احمد آلوسہ گاؤں سے روپوش ہوگیا اور اس نے فوجی کیمپ میں پناہ لے لی۔ تاہم فوج نے اسے پناہ دینے سے انکار کیا تو وہ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کے پاس گیا جہاں اسے گرفتار کیا گیا۔
نذیر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک سابق عسکریت پسند ہے جو بعد میں انسدادِ تشدد کے کام میں فوج کا معاون ہوگیا۔
واضح رہے کہ یکم مئی سنہ دو ہزار دس کو بارہمولہ کے تین مزدوروں کو بھی بعض کشمیری مخبروں نے نقد معاوضہ کے عوض پاکستانی عسکریت پسند بتا کر انہیں فوج کے ہاتھوں ایک فرضی جھڑپ میں ہلاک کروا دیا تھا۔
اسی ہلاکت کے خلاف کشمیر میں پانچ ماہ کی شدید احتجاجی لہر چلی جسے دبانے کے دوران پولیس، فوج اور نیم فوجی عملے کی کارروائیوں میں ایک سو بیس نوجوان مارے گئے۔
فرضی جھڑپوں کے اکثر واقعات کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ فوج کے اعانت کار کشمیریوں نے نقد معاضوں کے عوض اپنے رشتہ داروں یا دوستوں کو ہلاک کروایا ہے۔
سنہ اُنیس سو چورانوے میں فوج اور پولیس نے عسکریت پسندوں میں سے ہی بیشتر نوجوانوں کو اپنا اعانت کار بنایا اور کشمیر میں ’اخوان المسلمون‘ کے نام سے ایک متوازی ملیشیا کا قیام عمل میں آیا ۔ اخوان اہلکاروں نے سینکڑوں افراد جن میں اکثر عسکریت پسند یا علیٰحدگی پسند تھے کو قتل کردیا۔
کشمیر میں ایسے سینکڑوں افراد فوج اور پولیس کے ساتھ کام کرتے ہیں جنہوں نے مسلح علٰحدگی پسندی کا میدان چھوڑ دیا ہے۔
حکومتی حلقوں میں اکثر یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ انہیں باقاعدہ پولیس میں بھرتی کیا جائے تاکہ وہ بھی جوابدہ فورس کا حصہ بنیں، لیکن ہر بار یہ تجویز مسترد کر دی جاتی ہے۔
مبصرین کہتے ہیں کہ اسی اخوان کلچر کا نتیجہ ہے کہ کشمیری سماج میں ’برادرکشی‘ کا رجحان بڑھا اور جب بھی فوج پر دباؤ ہوتا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے بارے میں نتائج ظاہر نہیں کرتی تو کوئی نہ کوئی نذیر آگے بڑھ کر اپنے ہی بھائی کی جان لے لیتا ہے۔







