کشمیر: شہری کی ہلاکت پر کشیدگی

،تصویر کا ذریعہAP
کشمیر کے شمال مشرقی ضلع بانڈی پورہ میں فوج کی حراست کے دوران ایک شہری کی ہلاکت سے کشیدگی پھیل گئی ہے۔
اس ہلاکت کے خلاف ضلع بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جبکہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب بھارت کے وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا کشمیر کا اپنا پہلا دورہ کر رہے ہیں۔ وزیراعلٰی عمرعبداللہ نے بھی جمعرات کو بانڈی پورہ کا دورہ منسوخ کردیا ہے۔ ہندنواز اور علیٰحدگی پسند گروپوں نے یکساں لہجہ میں اس ہلاکت کی مذمت کی ہے۔
فوجی ترجمان لیفٹنٹ کرنل جے ایس برار نے بتایا کہ ہلال احمد نام کے اس نوجوان نے فوج پر فائرنگ کی اور جوابی کاروائی میں وہ مارا گیا۔ لیکن پولیس اور ضلع انتظامیہ نے ابتدائی تفتیش کے بعد یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ ایک عام شہری ہے اور پچھلے آٹھ سال سے سیمنٹ کے کارخانے میں ملازم ہے۔
حکومت نے اس واقعہ کی مجسٹریٹ سطح پر تحقیقات کرنے کے لیے ایڈیشنل ضلع کمشنر طارق احمد زرگر کو انکوائری آفیسر مقرر کیا ہے۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ہلال احمد نامی اس شہری کو منگل کی شب فوج کی 27 راشٹریہ رائفلز سے وابستہ اہلکاروں نے اُس وقت گرفتار کرلیا جب وہ ایک مسجد میں تبلیغی جماعت کے کارکنوں کے لیے مسواک اور کھجور لے کر جا رہا تھا۔
پولیس کے مقامی افسر بشیر احمد خان نے بتایا کہ ہلال احمد کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد اسے لواحقین کے سپرد کیا گیا۔ تفتیش کرنے والے ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ ہلال احمد سرینگر کے مضافات میں واقع ’خیبر سیمنٹ‘ کے کارخانے میں پچھلے کئی سال سے کام کر رہے تھے اور ان کی تحویل سے جو شناختی کارڑ ملا ہے اس کی سیمنٹ کارخانے کی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے۔ لیکن فوجی حکام اس بات پر مُصر ہیں کہ ہلال ایک مسلح عسکریت پسند تھا جس نے فوج پر حملہ کیا۔
ہلال احمد کے ایک ساتھی نے بتایا کہ ’'ہلال کے لمبے بال تھے اور اس نے داڈھی بھی رکھی تھی۔ وہ شکل و صورت سے افغانی لگتا تھا۔ وہ فیکٹری سے چھُٹی لے کر تبلیغی جماعت کے ساتھ تین روز مسجد میں گزارنے کی غرض سے سرینگر سے بانڈی پورہ آیا تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی لوگوں نے بتایا کہ فوج کی ستائیس راشٹریہ رائفلز کا یونٹ حال ہی میں وہاں تعینات ہوا ہے۔
حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں اور دوسرے لیڈروں نے اس ہلاکت کو ’جنگی جُرم‘ قرار دے کر عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ کشمیریوں کے حقوق کی پامالی کے لیے بھارتی حکومت کو عالمی عدالت میں طلب کیا جائے۔ ہندنواز گروپوں نے اس ہلاکت کو امن عمل کے لیے بہت بڑا دھچکہ قرار دیا ہے۔
اُدھر جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ قصبہ میں کئی دیہات کے لوگوں کا کہنا ہے کہ فوج اکثر بستیوں میں گھس کر لوگوں کو ہراساں کرتی ہے۔ کھریو بستی کے لوگوں کا الزام ہے کہ فوج سات جولائی کو سرینگر۔جموں شاہراہ پر مسلح حملے میں ملوث لوگوں کو ڈھونڈنے کے بہانے لوگوں کا قافیہ تنگ کر رہی ہے۔ فوجی ترجمان نے کہا کہ اس شکایت کے بعد فوجی اہلکاروں کو تلاشی مہم کے دوران عام لوگوں کو تنگ نہ کرنے کے ہدایات دی گئی ہے۔







